shafaqat-mehmood-on-reopen

حکومت کا 18 جنوری سے تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے سے متعلق اہم اعلان

اسلام آباد :حکومت نے 9 ویں سے 12ویں تک کے تعلیمی ادارے 18جنوری سے کھولنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پہلی سے 8ویں جماعت تک اسکولز کھولنے کے فیصلے میں ایک ہفتے کی توسیع کردی۔
۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیراسدعمرکی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کاخصوصی اجلاس ہوا، اجلاس میں تعلیمی اداروں کودوبارہ کھولنے کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا این سی اوسی اجلاس میں کوروناصورتحال پر اعدادوشمار کی روشنی میں جائزہ لیا گیا، 18جنوری سے بتدریج تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیاتھا۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ 26 نومبر کو کورونا کےمثبت کیسز کی شرح 7.9فیصد تھی، جو 14جنوری تک 6.10پرآئی ہے، سنجیدہ مریضوں کی شرح میں 26 نومبر کے بعد بڑھی ہے، تعلیم سے وابستہ لوگوں کواحساس ہے کہ بچوں کا نقصان ہورہاہے لیکن ہمیں ساتھ ساتھ صحت کا بھی خیال کرنا ہے۔

وفاقی وزیرتعلیم نے 18جنوری سے11،10،9ویں جماعتوں کے کھولنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا اس سال کسی بچے کو بغیرامتحان پاس نہیں کیا جائے گا۔

شفقت محمود نے یکم سے 8ویں جماعت تک اسکولز کھولنے کے فیصلے میں ایک ہفتے کی توسیع کرتے ہوئے کہا یکم سے 8ویں جماعت کے تعلیمی ادارے یکم فروری سے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ یونیورسٹیز اوردیگر تعلیمی ادارے بھی یکم فروری سے کھولیں گے۔

انھوں نے کہا کہ 18جنوری سے 9ویں سے12ویں کلاسز بحال ہوجائیں گی جبکہ کلاس ایک سےآٹھ تک 25جنوری کے بجائے اب یکم فروری سے کھلیں گی اور جامعات بھی یکم فروری سے کھلیں گی۔

گذشتہ روز وزیر تعلیم شفقت محمود نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسکول کھولنا میری خواہش ہے تاہم طلبہ کی صحت اولین ترجیح ہے ، حتمی فیصلہ صحت کی بنیاد پرہوگا۔

یاد رہے 4 جنوری کو وزیر تعلیم شفقت محمود نے ملک بھر میں تعلیمی ادارے 3 مراحل میں کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہہ 18 جنوری سے 9 سے 12 ویں جماعت تک اسکول ، 25 جنوری سے پرائمری سے 8 ویں جماعت تک اسکول جبکہ جامعات سمیت ہائیر ایجوکیشن ادارے یکم فروری سے کھولے جائیں گے۔

بورڈ امتحانات کے حوالے سے وزیر تعلیم نے کہا بورڈ امتحانات اب مئی اور جون میں ہوں گے جبکہ 11 جنوری سے اسکول انتظامیہ اور اساتذہ فرائض انجام دے سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح بچوں کی صحت ہے ، بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا، 14یا15 جنوری کو بھی دوبارہ جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں