shabe-e-mairaj-observed-today

شبِ معراج: سرورِ کائنات ﷺ کی ربّ سے ملاقات

کراچی/ لاہور/ اسلام آباد / کوئٹہ / لاہور: ملک بھر میں نمازِ مغرب کے بعد 27 ویں رجب کا آغاز ہوگیا ہے جسے شبِ معراج کہا جاتا ہے جو عالمِ اسلام میں انتہائی اہمیت حامل ہے، شبِ معراج پر مساجد میں عبادات اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے، آج مساجد میں ملک و قوم کی سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ خصوصی طور پر کرونا کی وبا کے خاتمے کے لیے دعائیں کی جائیں گی۔

معراج کی شب کو دین اسلام میں ایک نمایاں اور منفرد مقام حاصل ہے کیونکہ اس رات اللہ رب العزت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس بلا کر اپنا دیدار کرایا تھا۔

رجب المرجب اسلامی سال کا ساتواں مہینہ ہے، اللہ رب العزت نے تمام مہینوں کے مختلف دنوں اور راتوں کی اہمیت و فضیلت اور ان کی خاص برکات و خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔

شبِ معراج جہاں عام انسانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالنے والا واقعہ ہے، وہیں اسے امت مسلمہ کے لئے عظیم فضیلت والی رات بھی قرار دیا گیا ہے۔

اسراء اور معراج کے واقعہ نے فکرِ انسانی کو ایک نیا موڑ عطا کیا اور تاریخ پر ایسے دور رس اثرات ڈالے جس کے نتیجے میں فکر و نظر کی رسائی کو بڑی وسعت حاصل ہوئی، اس واقعے کو حضور اکرم کا امتیازی معجزہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

سفرِ معراج

شبِ معراج محبوب خدا نے مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں کی سیر کرکے اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس شب حضور نبی کریم ﷺ آسمانوں سے بھجوائی گئی خصوصی سواری البراق پر سوار ہو کر خالق کائنات سے ملاقات کے لئے تشریف لے گئے تھے اور رب کی طرف سے امت کے لئے 5 فرض نمازوں، رمضان المبارک کے روزوں کا تحفہ لے کر آئے۔

ستائیس رجب المرجب وہ بابرکت رات ہے جب مدینہ میں ہجرت سے پانچ سال قبل حضور سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اپنے رب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور رب کائنات نے سرکار دو عالم کو سات آسمانوں کی سیر کرائی۔

اس رات کا تذکرہ سورۃ البنی اسرائیل کی پہلی آیت میں کچھ اس طرح کیا گیا ہے۔

سُبْحَانَ الَّـذِىٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى الَّـذِىْ بَارَكْنَا حَوْلَـهٝ لِنُرِيَهٝ مِنْ اٰيَاتِنَا ۚ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْـرُ (1)۔

(سورۃ البنی اسرائیل)

ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں، بے شک وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔

علمائے اسلام کا کہنا ہے کہ شب معراج کو اللہ تعالیٰ سے نماز کا تحفہ حاصل ہوا، جو مسلمان دن میں پانچ مرتبہ ادا کرکے خالق کائنات کی ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں، شب معراج کی برکتیں اور رحمتیں سمیٹنے کا بہترین طریقہ اتباع رسول ہے۔

علمائے کرام اس رات کی فضیلت و اہمیت واضح کرنے کے لئے خصوصی بیان کرتے ہیں جبکہ دینی محافل اور توصیف رسول ﷺ کی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے البتہ کرونا وائرس کے پیش نظر رواں سال اہل اسلام کو گھروں پر ہی عبادت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قرآن پاک میں بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں اس واقعہ کا ذکر موجود ہے ، جو معراج یا اسراء کے نام سے مشہور ہے ، احادیث میں بھی اس واقعہ کی تفصیل ملتی ہے، شب معراج انتہائی افضل اور مبارک رات ہے کیونکہ اس رات کی نسبت معراج سے ہے ۔

سفرِمعراج کے مراحل

سفرِ معراج کا پہلا مرحلہ مسجدُ الحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا ہے، یہ زمینی سفر ہے۔

دوسرے مرحلے سفرِ معراج کا دوسرا مرحلہ مسجدِ اقصیٰ سے لے کر سدرۃ المنتہیٰ تک ہے، یہ کرۂ ارضی سے کہکشاؤں کے اس پارواقع نورانی دنیا تک کا سفر ہے۔

تیسرے مرحلے سفرِ معراج کا تیسرا مرحلہ سدرۃ ُالمنتہیٰ سے آگے قاب قوسین اور اس سے بھی آگے تک کا ہے،چونکہ یہ سفر محبت اور عظمت کا سفر تھا اور یہ ملاقات محب اور محبوب کی خاص ملاقات تھی لہٰذا اس رودادِ محبت کو راز میں رکھا گیا، سورۃ النجم میں فقط اتنا فرمایا کہ وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو راز اور پیار کی باتیں کرنا چاہیں وہ کرلیں۔

علمائے اسلام کے مطابق معراج میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات روحانی نہیں، جسمانی تھی، جسے آج کے جدید دور میں سمجھنا مشکل نہیں، شبِ معراج میں نفلی عبادات انجام دینا احسن اقدام ہے لیکن اس رات کو ملنے والے تحفے نماز کی سارا سال پابندی بھی اللہ تعالیٰ کی پیروی کا ثبوت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں