maryam-nawaz-provoke-workers-and-thereat-state

حمزہ شہباز کیساتھ اختلاف کی خبریں بے بنیاد ہیں، مریم نواز شریف

مولانا فضل الرحمان کیساتھ ملاقات کے بعد ان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے پی ڈی ایم کے مستقبل پر بات کی اور کہا پیپلز پارٹی رہے گی یا نہیں؟ یہ ان کا فیصلہ ہوگا، اس حوالے سے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی(ف) نے اپنے بڑے، بڑے جلسے کیے، ہمیں کسی اور کی ضرورت نہیں، ہمیں صحیح معنوں میں عوام کی ترجمانی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں متحد رہیں کیونکہ عمران خان کی جعلی حکومت کا مستقبل اس کی کارکردگی سے جڑا ہوا ہے۔ حکومت کو پتلی گلی سے نکلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا اعظم نذیر تارڑ کے حوالے سے متفقہ فیصلہ ہوا تھا، یہ فیصلہ یوسف رضا گیلانی کے گھر پر کیا گیا تھا۔ اعظم نذیر تارڑ کا اصولی فیصلہ ہو چکا، اب اسے بدلنے کی ضرورت نہیں، امید کرتی ہوں اس فیصلے پر دوسری جماعتیں بھی کھڑی رہیں گی۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’اتنی بری طرح ڈرے ہوئے ہیں کہ نیب کا 26مارچ کا نوٹس دے دیا، مریم نواز نیب آئےگی، فکرنہ کرو، جوتمہاری جان نکلی ہوئی تھی اسے واپس جانے نہیں دیں گے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’آپ سب میرے ساتھ 26 مارچ کو نیب چلیں اور بتادیں کہ اب مزید ظلم برداشت نہیں کریں گے، ہمارےلیڈرکو کوئی گالی دے یا جوتامارےتو جواب میں اُس کا منہ توڑ دیں گے‘۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’نوازشریف کے بارے میں اگر کوئی بات کرے گا تو اُس کی زبان کھینچ لیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ سمجھتےہیں مریم کو قابو کر لو تو شاید حکومت مخالف تحریک میں کمی آجائے مگر یہ ان کی بھول ہے، میں کسی سے نہیں ڈرتی، ڈیتھ سیل میں اکیلی رہ کر آئیں ہوں، عزت و موت نیب یا عمران خان کے ہاتھ میں نہیں، ہم بہت قربانیاں دے چکے اب حساب لینے کا وقت آگیا ہے‘۔

قبل ازیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز شریف کی ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز کی نیب پیشی کے وقت پی ڈی ایم رہنما اور کارکن ساتھ ہوں گے، چھبیس مارچ کو طلبی کی جو وجہ بتائی گئی اس سے ثابت ہوگیا نیب ایک کٹھ پتلی ادارہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں