agricultural-sector-to-set-up-high-level

زرعی شعبے کا فروغ، وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کمیٹی کے قیام کا فیصلہ

اسلام آباد: زرعی شعبے کے فروغ سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج پیر کو وزیر اعظم کی زیر صدارت ملک کے زرعی شعبے کی بحالی اور اصلاحات پر جائزہ اجلاس بلایا گیا، جس میں وزیر اعظم کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ کمیٹی وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، نجی شعبے اور ماہرین پر مشتمل ہوگی، اور یہ ایگری کلچر ٹرانسفارمیشن پلان کو حتمی شکل دے کر وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔

اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا فوڈ سیکیورٹی یقینی بنانا، زرعی شعبے کا فروغ، اور کسان کو جائز حق دلوانا ہماری ترجیح ہے، معیشت میں زراعت کی اہمیت کے باوجود ماضی میں اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، اور اس میں ٹیکنالوجی کے فروغ کو نظر انداز کیا گیا، جس کا خمیازہ ہمارے کسان اور ملکی معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

دریں اثنا، اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی مجموعی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ موجود استعداد سے کم ہے، گندم، چاول، مکئی، کپاس اورگنے کی پیداوار خطے کے مقابلے میں کم ہے، مؤثر حکمت عملی، اور کسانوں کو معاونت کی فراہمی سے زرعی پیداوار کے تناسب کو 2031 تک 74 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

بریفنگ کے مطابق سال 2020 میں ملکی مجموعی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ 49 ارب ڈالر رہا، 31 ارب ڈالر لائیواسٹاک، 1 ارب فشریز، 17 ارب ڈالر زرعی فصلوں کی مد میں ریکارڈ ہوا، گندم کی فصل میں ملکی اوسطاً پیداوار 29 من فی ایکڑ، چاول کی پیداوار 50 من رہی، مکئی 57 من، کاٹن 18 اورگنے کی پیداوار 656 من رہی۔ جب کہ بھارت میں یہ پیداوارگندم 51 من، چاول 64، مکئی 42، کاٹن 18، گنے کی 796من رہی۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ اس وقت کسان کو فی ایکڑ 140 ڈالر ایگری کریڈٹ دستیاب ہے، بھارت میں یہ 369 ڈالر، امریکا میں 192، چین میں 628 ڈالر میسر آ رہا ہے، سبسڈی مد میں ہمارے کسان کو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم معاونت میسر ہے، یہ معاونت اوسطاً 27 ڈالر فی ایکڑ ہے۔

بتایا گیا کہ 20 سال میں فصلوں کی پیداوار میں صلاحیت کے مطابق استعداد کو بروئے کار نہیں لایا جا سکا۔ اجلاس میں زرعی شعبے میں استعداد کو بروئے کار لانے کے لیے ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان 2021 پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں بیج سیکٹر میں اصلاحات، ڈیجیٹل سبسڈی کا نظام، پانی کے مؤثر استعمال، کاشت کاروں کو کریڈٹ کی فراہمی، اور ایکسٹینشن سروسز کی تنظیم نو پر بریفنگ شامل تھی۔

اجلاس میں اسٹوریج کی سہولت، تحقیقاتی شعبوں میں اصلاحاتی پروگرام سمیت 8 بڑے اقدامات کی نشان دہی کی گئی، بتایا گیا کہ کپاس، زیتون، مال مویشیوں میں جنیٹک امپروومنٹ اور فشریز کے شعبوں کو ترجیحاتی طور پر لیا جائے گا، ان شعبہ جات میں اصلاحات پر عمل درآمد سے متعلق مجوزہ ٹائم لائنز بھی وزیر اعظم کو پیش کی گئیں۔

کسانوں کو ٹارگیٹڈ سبسڈی کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل طریقہ کار پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 67 فی صد تقریباً 37 لاکھ کسانوں کا ڈیٹا موجود ہے، 18 لاکھ کسان کسی نہ کسی صورت میں ڈیجیٹل نظام سے سروسز استعمال کر چکے ہیں، 9 لاکھ کسانوں کو سبسڈی حاصل ہے، کے پی میں 4 لاکھ کسان ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں