pakistan-capital-islamabad-and-qazi-abdurahman

اسلام آباد: دارُالحکومت کو یہ نام ایک اسکول ٹیچر نے دیا تھا

سطحِ مرتفع پوٹھوہار میں مارگلہ پہاڑی کے دامن میں واقع شہر اسلام آباد اپنی خوب صورتی کے علاوہ دنیا بھر میں پاکستان کے دارُالحکومت کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ اس شہر کے شمال مشرق میں مشہور سیّاحتی اور پُرفضا مقام مری واقع ہے اور جنوب مغرب میں ٹیکسلا کہوٹہ، جنوب مشرق میں اٹک کا علاقہ ہے۔ اسلام آباد کا جڑواں شہر پنڈی ہے۔

چار موسموں سردی، گرمی، خزاں اور بہار کے علاوہ یہاں‌ برسات کا موسم بھی آتا ہے اور خوب بارشیں ہوتی ہیں۔ 2001ء میں یہاں دس گھنٹوں کے دوران 620 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی جسے 100 سال کے دوران ہونے والی ریکارڈ بارش کہا گیا تھا۔

یہ تو وفاقی دارُالحکومت کے محلِ وقوع اور آب و ہوا کے بارے میں‌ مختصر معلومات تھیں، جو شاید آپ کے علم میں‌ بھی ہوں، لیکن کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس شہر کا نام کس نے تجویز کیا تھا؟

یہ بات ہے 24 فروری 1960ء کی جب وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا اور اس میں نئے دارُالحکومت کے لیے موصول نام اور اس سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا، اس اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ ملک کے وفاقی دارالحکومت کا نام اسلام آباد ہوگا۔

اس اجلاس سے قبل حکومت کو اس حوالے سے کئی نام اور تجاویز موصول ہوچکی تھیں اور اب ان میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ ایک اسکول ٹیچر قاضی عبدالرحمٰن نے ملک کے دارُالحکومت کا نام اسلام آباد تجویز کیا تھا۔ ان کا تجویز کردہ نام متعلقہ کمیٹی تک پہنچا اور پھر سرکاری اجلاس میں کئی ناموں کے ساتھ یہ نام بھی سب کے سامنے رکھ دیا گیا۔

قاضی عبدالرّحمٰن کا تعلق عارف والا سے تھا جنھیں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس روز اجلاس میں ان کا تجویز کردہ نام ملک کے دارُالحکومت کے طور پر آباد کیے گئے نئے شہر کے لیے منظور کرلیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں