old-graveyard-in-malir-karachi

سات سو سال پرانی تین اور چار منزلہ قبریں

کراچی میں‌ قومی شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے ملیر سٹی پہنچیں‌ تو یہاں ایک سڑک بکرا منڈی سے ہوتی ہوئی 7 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے میمن گوٹھ کی طرف جارہی ہے۔ اس کے قریب ہاشم جوکھیو گوٹھ واقع ہے۔ اسی ملیر کے علاقے میں ایک قدیم قبرستان بھی ہے۔ کسی زمانے میں ملیر کھیت اور مختلف سبزیوں کی پیداوار اور پھلوں کے باغات کی وجہ سے مشہور تھا۔

یہاں ایک ایسا قبرستان ہے جس کے بارے میں‌ کہا جاتا ہے کہ یہ تقریباً سات سو سال پہلے بنا تھا۔ اس قبرستان میں تقریباً 600 سے زائد پکّی اور سیکڑوں کی تعداد میں کچّی قبریں موجود ہیں۔ یہ قبریں تین اور چار منزلہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ قدیم بلوچ گھرانوں کی 18 فٹ اونچی قبریں ہیں‌ جو بلوچی تہذیب اور ثقافت کی عکاس بھی ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق یہاں صرف بلوچ کلمتی قبیلے کے سرداروں، امرا اور ان کے ملازمین دفن کیے جاتے تھے۔ یہ قبریں اپنے خاص طرزِ تعمیر کی وجہ سے توجہ حاصل کرلیتی ہیں۔

سندھ کے مختلف تاریخی قبرستانو‌ں کی طرح یہاں بھی قبروں پر نقش و نگار بنائے گئے ہیں اور ان کی مدد سے مردے کی شناخت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یہاں خواتین کی قبروں پر زیورات اور بچوں کی قبروں پر پالنے کے نقوش بنائے گئے ہیں۔ سرداروں کی قبروں پر تاج کی شبیہ اور اسی طرح سپاہیوں کی قبریں جنگی ہتھیاروں کی تصاویر سے مزیّن ہیں۔

ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں ہر قبر کے کتبے پر مدفون کا نام عربی رسم الخط میں نقش کیا گیا ہے۔ مینا کاری کے کام کے علاوہ ان پر قرآنی آیات تحریر ہیں۔ اب یہا‌ں کئی مقبرے برباد ہوچکے ہیں اور قبریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں