How is verification done?

جب دو بھارتی کوہ پیماؤں نے جعلسازی سے ایورسٹ کو سر کرنے کا ڈرامہ کیا– چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق ہوتی کیسے ہے؟ جانیے

آپ نے وہ کہاوت تو سنی ہو گی ’جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا؟‘ اب وہ مور چاہے جیسے مرضی دعوے کرتا پھرے کہ وہ کتنا اچھا ناچا، کون اس کا یقین کرے گا؟ اور اگر کوئی کوہ پیما ہزاروں فٹ اونچے کسی پہاڑ کی چوٹی سر کر لیتا ہے لیکن اسے دیکھنے کے لیے آس پاس کوئی بھی موجود نہیں، تو کیا وہ واقعی چوٹی تک پہنچا ہے؟ ایسا ہی کچھ سنہ 1924 میں ہوا جب دو برطانوی کوہ پیما (جارج میلوری اور اینڈریو سینڈی اروائن) دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ پر اپنے ملک کا جھنڈا گاڑنے پہنچے اور اس کوشش میں لاپتہ ہو گئے۔ آخری مرتبہ انھیں سمٹ سے صرف 245 میٹر کے فاصلے پر دیکھا گیا تھا۔۔۔۔ اور پھر 75 سال بعد سنہ 1999 میں ان کے باقیات کی تلاش میں بھیجی جانے والی مہم کے ایک رکن (امریکی کوہ پیما کونراڈ اینکر) کو میلوری کے جسم کا ڈھانچہ ملا۔۔۔ البتہ اروائن کا آج تک کوئی نشان نہیں مل سکا۔ میلوری کا ڈھانچہ جس حالت میں اور جس مقام پر ملا، اس پر بے شمار تحقیقی کتابیں لکھی گئیں اور کئی برطانوی کوہ پیما آج بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایورسٹ کی چوٹی کو سب سے پہلے سر کرنے کا سہرا انھی دو برطانوی شہریوں کو جاتا ہے۔ تاہم قیاس آرائیوں اور تحقیقات کے باوجود آج بھی یہ سوال ’کوہ پیمائی کی تاریخ کا سب سے بڑا سوال‘ ہے کہ آیا میلوری اور اروائن کی موت سمٹ سے واپسی پر ہوئی یا چوٹی پر پہنچنے سے قبل ہی وہ موت کے منھ میں جا گرے تھے۔ اب آتے ہیں پاکستان میں ہونے والی بحث کی جانب۔۔۔ دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش کرنے والے لاپتہ پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ کے مطابق جب انھیں ڈیتھ زون میں 8200 میٹر کی بلندی پر ہیلوسنیسیشن شروع ہوئی اور آکسیجن ماسک کا ریگولیٹر خراب ہو جانے کے باعث انھوں نے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا اس وقت دن کے گیارہ بجے کا وقت تھا اور آخری بار انھوں نے اپنے والد علی سدپارہ کی ٹیم کو بوٹل نیک میں 8200-8300 میٹر پر بہت اچھی اور فٹ حالت میں سمٹ کی جانب رواں دواں دیکھا۔ سکردو پہنچنے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ساجد کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں لگتا ہے کہ ان کے والد نے سمٹ کیا ہے (یعنی کے ٹو کی چوٹی تک پہنچے ہیں) اور ان کے ساتھ جو بھی حادثہ ہوا وہ سمٹ سے واپسی کے سفر میں بوٹل نیک یا کہیں نیچے ہوا۔ سنیچر سے اب تک ان تینوں کوہ پیماؤں کا سراغ لگانے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں اور جہاں ان تینوں کے ’کے ٹو‘ سر کرنے کے متعلق ’ابہام‘ باقی ہے، وہیں بیشتر افراد یہ سوال بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ آخر یہ کیسے پتا چلتا ہے کہ کسی کوہ پیما نے چوٹی کو سر کر لیا ہے؟ اور کیا کچھ لوگ اس معاملے میں مشہور ہونے یا سپانسرز کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا بھی لیتے ہیں؟ جی ہاں! حال ہی میں نیپال کی حکومت نے دو انڈین کوہ پیماؤں اور ان کے ٹیم لیڈر پر چھ سال تک ملک میں کوہ پیمائی کرنے پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کی ہے کہ انھوں نے سنہ 2016 میں ایورسٹ سر کرنے کی جو تصاویر دکھائیں تھیں وہ ’جعلی یا فیک‘ تھیں اور دراصل یہ دونوں چوٹی تک پہنچے ہی نہیں تھے۔ 

جب دو بھارتی کوہ پیماؤں نے جعلسازی سے ایورسٹ کو سر کرنے کا ڈرامہ کیا-- چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق ہوتی کیسے ہے؟ جانیے 1

 اگرچہ اس وقت نیپالی حکام نے نریندر سنگھ یادو اور سیما رانی گوسوامی نامی ان دو انڈین کوہ پیماؤں کو ایورسٹ سر کرنے کے سرٹیفکیٹ جاری کیے تھے تاہم کئی تجربہ کار کوہ پیماؤں کا کہنا تھا کہ انھیں تصاویر ’فیک‘ لگیں کیونکہ ایک تو ان کے آکسیجن ماسک کی ٹیوبز آکسیجن ٹینک سے منسلک نہیں تھیں، دوسرا ان کی پہنے گئے چشمے میں نہ کوئی برف نظر آئی نہ دھوپ اور نہ ہی کوئی جھنڈا اڑ رہا ہے جو وہاں لی گئی اکثر تصاویر میں نظر آتا ہے۔ نیپال کی وزارت سیاحت کے مطابق دوسرے کوہ پیماؤں کے ساتھ کی گئی تحقیقات کے دوران انھیں معلوم ہوا کہ یہ دونوں سمٹ تک پہنچ ہی نہیں پائے تھے اور وہ اس سمٹ کی کوئی قابل اعتماد تصاویر اور دیگر شواہد فراہم کرنے میں بھی ناکام رہے۔ ناصرف ان کی فراہم کردہ تصاویر فیک تھیں بلکہ انھوں نے چوٹی سر کرنے سے متعلق بھی جھوٹ بولا۔ تاہم ایسا پہلی بار نہیں ہوا اور نیپال کا کہنا ہے کہ ایورسٹ سر کرنے کے ’جھوٹے دعوے‘ بہت عام ہو گئے ہیں۔ اب میری طرح آپ بھی یہی سوچ رہے ہوں گے کہ اگر ایسا ہے تو آخر کن شواہد کی بنیاد پر کوہ پیماؤں کے چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق کی جاتی ہے؟ بی بی سی نے یہ جاننے کے لیے 8000 میٹر سے زیادہ بلند چوٹیوں کو سر کرنے والے پاکستانی کوہ پیماؤں سے لے کر پاکستان میں کے ٹو سمیت دیگر چوٹیاں سر کرنے کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے والی انتظامیہ اور کوہ پیمائی پر تحقیق کرنے والے ماہرین سے بات کی ہے۔ 

جب دو بھارتی کوہ پیماؤں نے جعلسازی سے ایورسٹ کو سر کرنے کا ڈرامہ کیا-- چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق ہوتی کیسے ہے؟ جانیے 2

 ’زبان پر اعتبار‘دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹی ایورسٹ پر پہلی مرتبہ پاکستان کا جھنڈا گاڑنے والے نذیر صابر کے نام سے کون واقف نہیں۔ نذیر کو ماؤنٹ ایورسٹ کے علاوہ دنیا کی بلند ترین 14 چوٹیوں میں سے پاکستان میں واقع چار چوٹیاں سر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے نذیر کا کہنا تھا کہ آج سے 20-25 سال پہلے حالات مختلف تھے اور کوہ پیما کی زبان کا اعتبار کیا جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی کوہ پیما کو زبردستی کوئی چوٹی سر کرنے کے لیے نہیں بھیجا جاتا اور دوسری یہ کہ کوہ پیمائی میں جھوٹ کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔‘ ’لیکن کئی لوگوں نے جھوٹ بولا ہے۔ کسی نے جان بوجھ کر کر جھوٹ بولا تو کسی نے غلط فہمی کی بنا پر۔‘ اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ بروڈ پیک (8051 میٹر)کے چار سمٹ ہیں: پہلے آپ ایک سمٹ پر پہنچتے ہیں، پھر دوسرا آتا ہے، اس کے بعد تیسرا اور آخر میں چوٹی۔ وہ بتاتے ہیں کہ بہت سارے ایسے کوہ پیما بھی آئے ہیں جو دوسرے سمٹ سے ہی لوٹ گئے ہیں اور انھوں نے کئی مہمات کی ایسی تصاویر بھی دیکھی ہیں جن کے متعلق وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ چوٹی پر پہنچ کر نہیں لی گئیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ کوہ پیما جان بوجھ کر دوسرے یا تیسرے سمٹ سے ہی لوٹ گئے ہوں، بلکہ اس کی وجہ مکمل معلومات کی کمی ہے۔ عمران حیدر تھہیم کوہ پیمائی کے شوقین اور گذشتہ 10 برس سے کوہ پیمائی کے لیے پاکستان آنے والی مہمات پر تحقیق کرتے آ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس زمانے میں انسان کے پاس سٹیمپ پیپر نہیں ہوتا تھا تب بھی تو زمینوں کے سودے زبانی کیے جاتے تھے۔‘ ’اصل بات ہے کوہ پیمائی کی اخلاقیات۔۔۔ سنہ 1953 میں آسٹرین کوہ پیما ہرمن بُل نے جب آ کر بتایا کہ انھوں نے نانگا پربت کو سر کر لیا ہے تو لوگوں نے ان کا اعتبار کیا۔‘ 

جب دو بھارتی کوہ پیماؤں نے جعلسازی سے ایورسٹ کو سر کرنے کا ڈرامہ کیا-- چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق ہوتی کیسے ہے؟ جانیے 3

 اس سوال کے جواب میں کہ کوہ پیما کیسے ثابت کرتے تھے کہ وہ چوٹی تک پہنچے ہیں، نذیر کہتے ہیں کہ کوہ پیماؤں کے پاس سمٹ ثابت کرنے کے لیے کئی ثبوت ہوتے تھے جن میں چشم دید گواہی سے لے کر چوٹی سے لی گئی تصاویر، آلات اور راستے کی تفصیلات وغیرہ شامل ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سنہ 1981 میں جب وہ کے ٹو سر کرنے کے لیے گئے تو ان کے پاس اولمپس کیمرا اور ٹرانسیور (جس کی رینج 12 کلومیٹر تک تھے) دونوں موجود تھے۔ عموماً کوہ پیما اس ٹرانسیور کو جسم کے ساتھ باندھ کر رکھتا ہے اور یہ مسلسل آپ کے مقام کی نشاندہی کر رہا ہوتا ہے۔ 1) تصاویرفیس بک پر ’چیک ان‘ کی سہولت سے قبل آپ نے بھی اگر کسی مشہور مقام کا دورہ کیا تو یقیناً وہاں کھڑے ہو کر اپنی تصویر تو بنوائی ہو گی۔ نذیر کے مطابق، کسی کوہ پیما نے سمٹ کیا ہے، یہ ثابت کرنے کا سب سے پہلا اور اہم طریقہ بھی تصاویر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سنہ 1981 کے سمٹ کے دوران انھوں نے سمٹ پر پہنچتے ہی سب سے پہلے ’جیسے کرکٹر سینچری کرنے پر سجدہ کرتے ہیں ویسے ہی سجدہ کیا‘ اور پھر مختلف زایوں سے ہر سمت سے تصاویر بنائیں۔ لیکن اگر ’آپ مارگلہ کی ٹاپ پر پہنچیں گے تو ہی پیچھے موجود وادی کی تصویر لے سکیں گے نا؟ جب تک آپ چوٹی تک نہیں پہنچیں گے تو دوسری سائیڈ کی تصویر کیسے لیں گے؟‘ ان کے مطابق اس موقع پر کوہ پیما کو پینوراما تصاویر لینا ہوتی ہیں یا ایسی تصاویر جن میں ویسٹ سمٹ وغیرہ کی تصویر نظر آئے۔ اور ظاہر ہے سمٹ کیے بغیر ایسی تصاویر لینا ممکن نہیں لیکن ان کے مطابق ان پینوراما تصاویر کے لیے موسم کا اچھا ہونا بےحد ضروری ہے۔ ’کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ کوہ پیماؤں کو اوپر پہنچنے پر اچھا موسم نہیں ملا لیکن ہم خوش قسمت تھے کہ شمال کی سمت میں موسم بالکل صاف تھا۔ اگرچہ پاکستانی سائیڈ تھوڑے بادل تھے اور ہمیں کنکورڈیا وغیرہ نظر نہیں آیا لیکن چین والی سائیڈ وہ اچھی طرح سے دیکھ سکتے تھے۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اس وقت ناصرف تصاویر بنائیں بلکہ پتھر کے ٹکڑے بھی ساتھ لائے۔ چونکہ چوٹی پر کوئی پتھر نہیں صرف سخت قسم کی برف ہی برف ہے لہذا انھوں نے چار میٹر نیچے جا کر یہ پتھر اکھٹے کیے۔ 

جب دو بھارتی کوہ پیماؤں نے جعلسازی سے ایورسٹ کو سر کرنے کا ڈرامہ کیا-- چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق ہوتی کیسے ہے؟ جانیے 4

 33 سالہ پاکستانی کوہ پیما سرباز خان نے اب تک پاکستان تین بلند ترین چوٹیاں (کے ٹو، نانگا پربت اور بروڈ پیک) جبکہ دو نیپالی چوٹیاں بھی سر کی ہیں۔ سرباز خان اور پاکستان میں موجود چوٹیاں سمٹ کرنے کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے والی کمپنی الپائن ٹورز کے سیکرٹری کرار حیدری، دونوں کے مطابق آج کل کی مہمات میں ایک لیڈر یا فوج کا لئیزن آفیسر موجود ہوتا ہے اور تمام معاملات اس کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔ سرباز کے مطابق ’ہم اکثر ٹیم کی شکل میں جاتے ہیں لہٰذا ایک رکن تصاویر اور ویڈیوز بنا لیتا ہے اور بعد میں لئیزین آفیسر یا لیڈر یہی تصویریں اور ویڈیوز دیکھ کر اور ان کا مختلف طریقوں سے جائزہ لے کر فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا اس کوہ پیما نے چوٹی سر کی ہے یا نہیں، اور اسی بنیاد پر وہ کاؤنٹر سائن کرتا ہے۔‘ (یہ لئیزین آفیسر یا لیڈر سب سن رہا ہوتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ کوہ پیما کس وقت کس کیمپ میں یا کتنی اونچائی پر موجود ہیں اور آگے کہاں جا رہے ہیں)۔ کیا ان چوٹیوں پر کچھ ایسی خاص نشانیاں بھی لگی ہیں جن کے ساتھ تصویر لینا لازم ہوتا ہے؟ 

جب دو بھارتی کوہ پیماؤں نے جعلسازی سے ایورسٹ کو سر کرنے کا ڈرامہ کیا-- چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق ہوتی کیسے ہے؟ جانیے 5

 کرار حیدری کے مطابق ایورسٹ پر بدھا کا ایک مجسمہ لگا ہوا ہے جس کے ساتھ تصویر بنائی جاتی ہے اور اسے دیکھ کر نیپالی حکام سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔ اس بارے میں سرباز بتاتے ہیں کہ تقریباً ہر چوٹی پر کچھ نہ کچھ ایسا موجود ہے جس کے ساتھ آپ کو تصویر لینی ہوتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ نانگا پربت پر ایک آئیس بار یا راک چٹان اتنی مضبوطی سے لگی ہے کہ یہ وہاں سے ہلتی نہیں اور جب تک آپ اس کے تصویر نہ لیں، یقین نہیں کیا جاتا کہ آپ نے چوٹی سر کی ہے۔ سرباز بھی نذیر صابر سے اتفاق کرتے ہیں کہ ان تصاویر کے لیے موسم صاف ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ 2) جی پی ایس ٹریکر و دیگر آلاتایسی خطرناک مہمات میں حصہ لینے والے کوہ پیما اپنے ساتھ کئی قسم کے آلات رکھتے ہیں جن کی مدد سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے سمٹ کیا ہے یا نہیں۔ کرار حیدری کے مطابق آج کل گارمین کے جی پی ایس ٹریکرز وغیرہ آ گئے ہیں جن سے ان کے کام میں کافی آسانی پیدا ہوئی ہے۔ اس بارے میں عمران حیدر تھہیم کہتے ہیں کہ کوہ پیما جو سیٹلائٹ فون یا ٹریکر استعمال کر رہا ہو اس پر لونگیٹیوڈ اور لیٹیٹیوڈ (طول البلد اور عرض البلد) سے اس کے مقام کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔ 

جب دو بھارتی کوہ پیماؤں نے جعلسازی سے ایورسٹ کو سر کرنے کا ڈرامہ کیا-- چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق ہوتی کیسے ہے؟ جانیے 6

 3) چشم دید گواہینذیر کہتے ہیں کہ اکثر کئی کوہ پیما مل کر سمٹ کرتے ہیں اور ان کے ساتھیوں کو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے سمٹ کیا ہے یا سمٹ کے دوران کسی نے کسی مقام پر آپ کا آمنا سامنا کسی دوسری مہم جو ٹیم کے اراکین سے ہو ہی جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب 1981 میں انھوں نے کے ٹو کو سر کیا اس وقت ابروزی پر فرانسیسی ٹیم بھی موجود تھی۔ ان کے مطابق ایورسٹ جیسے پہاڑ پر سیزن کے دوران سمٹ کرنے والے کوہ پیماؤں کی تعداد 100 تک بھی پہنچی ہے اور جب وہ سمٹ کرنے گئے اس وقت کم از کم بیس کیمپ پر 300 افراد موجود تھے۔ ’لیکن مسئلہ صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب کوئی سولو کلائمب (اکیلے مہم جوئی) کر رہا ہو۔‘ تو اگر کوئی اکیلے مہم جوئی کرنے نکلا ہے جسے کسی نے نہیں دیکھا، اس کے آلات کی بیٹری ختم ہو جائے یا کسی حادثے کے باعث وہ تباہ ہو جائیں یا کام کرنا چھوڑ دیں یا کیمرہ کہیں گر جائے یا وہ رات کے وقت سمٹ پر پہنے یا موسم خراب ہو اور کوہ پیما تصاویر نہ لے پائے تو اس صورت میں وہ کیسے ثابت کرے گا کہ وہ چوٹی تک پہنچا ہے؟ 

جب دو بھارتی کوہ پیماؤں نے جعلسازی سے ایورسٹ کو سر کرنے کا ڈرامہ کیا-- چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق ہوتی کیسے ہے؟ جانیے 7

 4) روٹ کی تفصیل اور چوٹی سے متعلق معلوماتنذیر کہتے ہیں کہ کوئی ایسا پہاڑ نہیں بچا جسے کسی نے سر نہ کیا ہو، لہٰذا اگر کوہ پیما اس معاملے میں جھوٹ بول رہا ہے تو اسی چوٹی کو پہلے سے سر کرنے والے کوہ پیما دو منٹ کے اندر صرف دو سوال کرکے ہی اس کا جھوٹ پکڑ سکتے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے نذیر کہتے ہیں: سنہ 1993 میں ایک مہم جو امریکی ٹیم کے ٹو سر کرنے پہنچی جس میں ایک برطانوی (جوناتھن پرات) بھی شامل تھا۔ لیکن 16 کوہ پیماؤں کی اس ٹیم میں ایک ایک کر کے سب بیمار پڑتے چلے گئے اور آخر میں صرف چند لوگ ہی رہ گئے۔ پھر اس مہم میں شامل جوناتھن پرات اور ڈین مزور نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے کے ٹو کو سر کر لیا ہے لیکن چونکہ ہم رات کو 11 بجے پہنچے تھے لہٰذا ہمارے پاس کوئی تصاویر نہیں۔‘ نذیر بتاتے ہیں کہ بہت سے کوہ پیماؤں نے ان سے کئی طرح کے سوالات کیے اور ان کے جوابات کی بنیاد پر کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ انھوں نے کے ٹو کو سر نہیں کیا تھا تاہم زیادہ تر افراد نے ان کی زبان کا ہی اعتبار کیا۔ 

جب دو بھارتی کوہ پیماؤں نے جعلسازی سے ایورسٹ کو سر کرنے کا ڈرامہ کیا-- چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق ہوتی کیسے ہے؟ جانیے 8

 عمران حیدر کہتے ہیں کہ ’سدپارہ اور ان کے لاپتہ ساتھیوں کے کیس میں یہ تینوں ساتھی ہی لاپتہ ہیں اور ایک دوسرے کی گواہی نہیں دے سکتے، دوسرا کوئی تصاویر یا ویڈیوز موجود نہیں، اور تیسرا ان کے ٹریکرز کیمپ فور سے پیچھے ہی خرابی کے باعث بند ہو چکے تھے اور بوٹل نیک سے آگے کا کوئی ریکارڈ فی الحال موجود نہیں ہے۔‘ ’اگرچہ ساجد نے 100 فیصد یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا لیکن جو انسان جہاں موجود ہوتا ہے اس سے بہتر اس مقام کے بارے میں کوئی نہیں بتا سکتا لہذا اس صورت میں اگرچہ ساجد کی کہی گئی بات کی حمایت میں کوئی بھی ثبوت میسر نہیں ہے۔۔ لیکن چونکہ وہ وہاں موجود تھے اس لیے ہمیں ان کی بات پر ہی اعتبار کرنا چاہیے۔‘ عمران کے مطابق جب بھی علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کا کچھ سراغ ملے گا اس وقت ان کے آلات بھی ملیں گے اور اس مقام اور آلات میں موجود ڈیٹا سے ثابت ہو سکے گا کہ آیا انھیں پیش آنے والا حادثہ سمٹ کرنے کے بعد واپسی کے سفر پر ہوا یا اس سے پہلے۔

 Partner Content: BBC Urdu

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں