کرتارپور؛ باباگورونانک کی آخری آرام گاہ 1

کرتارپور؛ باباگورونانک کی آخری آرام گاہ

پنجاب کے ضلع نارووال کی تحصیل شکرگڑھ کا گاؤں کرتارپور پوری دنیا میں ایک منفر پہچان رکھتا ہے، جس کی وجہ یہاں سکھوں کے مذہبی پیشوا باباگورونانک دیو جی کی آخری آرام گاہ یعنی گوردوارہ دربارصاحب ہے۔ کرتارپور راہداری کی وجہ سے بھی گزشتہ دوبرسوں میں اس علاقے کوخاصی شہرت ملی ہے۔

پاکستان اوربھارت نے نومبر2019ء میں باباگورونانک دیوجی کے 550 ویں جنم دن پر کرتار پور راہداری کھولی تھی لیکن مارچ 2020ء میں جب کوروناکی وبا پھیلنا شروع ہوئی تو پاکستان اور بھارت نے مشترکہ بارڈر بشمول کرتارپور راہداری بند کردیئے تھے، جو ابھی تک بند ہیں۔ رواں ماہ یعنی ستمبر میں باباگورو نانک دیوجی کی 482 ویں برسی کی تقریبات منعقد ہونے جارہی ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں مقیم سکھوں کی طرف سے برسی کے موقع پر راہداری کھولنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان دنیا بھرکے سکھوں کے لئے ایک مقدس مقام ہے کیوں کہ باباگورونانک جی کی پیدائش بھی یہاں ننکانہ صاحب میں ہوئی اور ان کی وفات بھی اسی دھرتی پر ہوئی، جسے ہم آج کرتارپور صاحب کے نام سے یادکرتے ہیں۔ باباگورو نانک کرتار پور کیسے پہنچے اور یہ بستی کیسے آباد ہوئی؟ اس کے بارے میں بھی سکھ مذہب کی تاریخ کی کتابوں میں روایات موجود ہیں۔

اس سلسلے میں پروفیسر حمید اللہ ہاشمی نے اپنی تصنیف بابا گورونانک میں ان کی کرتارپور کے مقام پر آمد کا واقعہ بیان کیا ہے۔ گورونانک جب لاہور سے اس علاقے میں پہنچے تو اس وقت یہاں ایک جنگل تھا اور لاہور کے نواب کی طرف سے کروڑی مل نامی شخص یہاں کا کوتوال تھا۔

گورونانک کی آمد کے بعد جب اردگرد کی بستیوں میں ان کے عقیدت مندوں کی تعداد بڑھنے لگی تو یہ بات کروڑی مل کو ناگوارگزری، وہ گھوڑے پر سوار باباگورو نانک کو گرفتار کرنے نکلا لیکن راستے میں ہی گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھا۔ کچھ مہینے بعد جب کروڑی مل روبصحت ہوا تو پھر گرفتاری کے ارادے سے نکلا لیکن راستے میں اندھا ہو گیا۔

ان حادثوں نے کروڑی مل کے اندر کی دنیا بدل دی اور وہ بابا گورو نانک سے معافی مانگ کر ان کا مرید ہو گیا۔ کروڑی مل نے باباگورو نانک سے التجا کی کہ وہ مستقل طور پر اس علاقے میں قیام کریں اور ان کے لئے دھرم شالہ بنانے کے لیے اراضی بھی فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

باباگورو نانک نے اس کی استدعا کو قبول کیا اور اس علاقے میں ایک قصبہ آباد کرنے کا ارادہ کیا۔ تھوڑے دن بعد دھرم شالہ تیار ہو گیا، بابا گورو نانک نے اپنے خاندان کو بھی وہاں بلوا لیا۔ کچھ عرصہ بعد ان کے مریدوں نے بھی وہاں کا رخ اختیار کر لیا اور اس علاقے میں سکونت اختیار کر لی۔ تھوڑے عرصے بعد ایک پوری بستی آباد ہو گئی اور بابا گورو نانک نے اس کا نام کرتار پور رکھا۔ کرتار مقامی زبان میں خدا کے لیے بولا جاتا تھا اس لیے یہ خدا کی بستی یعنی کرتار پور کہلاتی ہے۔ دھرم شالہ میں روحانی مجالس کا اہتمام کیا جاتا تھا اور صبح وشام اس میں کیرتن قائم ہوتی تھی۔

بابا گورونانک دیوجی اور ان کے مریدوں نے اس علاقے میں کاشت کاری بھی شروع کر دی۔ وہ مریدوں سے حاصل ہونے والے نذرانوں کو اپنی ذات پر خرچ نہیں کرتے تھے بلکہ غریبوں اور مسافروں کی نذر کر دیتے تھے۔ اس علاقے کوسکھوں کے دوسرے متبرک ترین مقام کا درجہ حاصل ہے۔

تاریخی شواہد کے مطابق کرتار پور 1504ء کے لگ بھگ آباد ہوا، جب ہندوستان پر لودھیوں کی حکومت تھی اور ابھی مغلوں نے یہاں کا رخ نہیں کیا تھا۔ گوردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی میں آنے والی سیلاب میں تباہ ہوگئی تھی۔

موجودہ عمارت سال 1920ء سے 1929ء کے درمیان پٹیالہ کے مہاراجہ سردار پھوبندر سنگھ نے دوبارہ تعمیر کروائی تھی، جس پر اُس وقت ایک لاکھ 35 ہزار600 روپے لاگت آئی تھی۔ 1995ء میں حکومت پاکستان نے بھی اس کے دوبارہ مرمت کی تھی پھر2019ء میں گوردوارہ صاحب کی پرانی عمارت کے اطراف میں ایک پوراکمپلیکس تعمیرکیا گیا اور آج یہ دنیا کا سب سے بڑاگوردوارہ ہے۔گوردوارے کا کل رقبہ 44 ایکڑ پرمشتمل ہے، 10 ایکڑرقبے پرکورٹ یارڈ بنائی گئی ہے جبکہ ایک لاکھ 50 ہزارمربع فٹ پربارہ دری، 28 ہزار190 مربع فٹ پر لنگر ہال بنایا گیا ہے، جہاں ایک وقت میں 2 ہزار افراد بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ مہمان خانہ 1 لاکھ 15 ہزار880 مربع فٹ پر مشتمل ہے۔ امیگریشن سنٹرکا رقبہ 52 ہزارمربع فٹ ہے، جہاں 76 امیگریشن کاؤنٹر بنائے گئے ہیں جبکہ مستقبل میں مزید 50 کاونٹربنائے جائیں گے۔

گوردوارہ ڈیرہ صاحب کے گرنتھی بھائی گوبندسنگھ کے مطابق جب باباگورونانک دیوجی نے یہ قصبہ کرتارپور آباد کیا تھا تو اپنے گھر سے متصل ایک مسجد بھی تعمیر کروائی تھی اور اس میں نماز پڑھانے کے لیے ایک امام بھی مقرر کیا تھا۔

بابا گورونانک کی ریاضت، تعلیمات اور احترام انسانیت کے اصولوں نے انہیں مسلمانوں اور ہندوؤں میں یکساں مقبول کر دیا تھا۔ روایت کے مطابق ان کی وفات کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں میں تنازع کھڑا ہو گیا تھا کہ بابا گورو نانک کی آخری رسومات کس طرح ادا کی جائیں۔ ہندو انہیں اپنے عقیدے کے مطابق جلانے کے لیے اصرار کر رہے تھے جب کہ مسلمان ان کی تدفین کرناچاہتے تھے۔ اس موقع پر مسلمانوں نے باباگورونانک کی طرف سے تعمیرکروائی گئی مسجد کو بطور دلیل پیش کیا تھا کہ وہ مسلمان تھے۔

سکھ مذہب کی روایت کے مطابق باباگورونانک دیوجی کے انتقال کے وقت ہندوؤں اور مسلمانوں میں بابا گورو نانک کے لیے عقیدت اور محبت کے جو جذبات تھے، اس کی پیشن گوئی ان کی پیدائش کے وقت ایک پروہت ہردیال مشرا نے کر دی تھی۔ سکھ مذہب کی روایات کے مطابق جب بابا گورو نانک کی پیدائش کے پانچویں روز پروہت ان کے گھر آئے تو انہوں نے نومولود کا نام نانک نرنکاری تجویز کیا۔

بابا گوروو نانک کے والد نے پروہت سے کہا کہ یہ نام تو آدھا مسلمانوں اور آدھا ہندوؤں جیسا ہے۔ پروہت نے جواب دیا کہ یہی نام مناسب ہے کیونکہ یہ بچہ مذہبی تعصب اور گروہ بندی سے بالا تر ہو گا اور ہندوؤں اور مسلمان دونوں اس کے عقیدت مند ہوں گے۔ یہ پیشن گوئی حقیقت میں کی گئی یا یہ بھی ان ہزاروں روایات کی طرح فقط ایک قصہ کہانی ہے جو ہر مذہب کے اکابرین کے معتقدین ان کے بارے بیان کرتے ہیں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بابا گورو نانک اپنے انتقال کے وقت مسلمانوں اور ہندوؤں میں اپنی تعلیمات کی وجہ سے یکساں مقبول تھے۔

بابا گورو نانک کے انتقال کے وقت بے شمار ہندو اور مسلمان کرتار پور میں موجود تھے۔ بھائی گوبند سنگھ بتاتے ہیں کہ مسلمان اورہندو باباگورونانک دیوجی کی تدفین اورآخری رسومات سے متعلق بحث وتکرارمیں مصروف تھے توکسی نے مشورہ دیا کہ یہ فیصلہ گوروجی پر ہی چھوڑ دیتے ہیں، اس وقت دریائے راوی یہاں سے گزرتا تھا اورگوروجی کی میت راوی کنارے رکھی گئی تھی، میت کے اوپر ایک سفید چادر ڈالی گئی تھی۔ مسلمانوں اورہندوؤں نے جب چادر ہٹائی تو میت غائب ہوچکی تھی اور چادرکے نیچے دو پھول پڑے تھے، سکھ عقیدے کے مطابق باباگورونانک دیوجی جوتی جوت سماگئے تھے۔

اس کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں نے چادر اور پھول آپس میں تقسیم کرلئے، مسلمانوں نے آدھی چادراور پھول لے کران کی تدفین کی اور قبر بنا دی جوآج بھی موجود ہے جبکہ ہندوؤں نے آدھی چادر اور پھول کو جلا کرسمادھی بنا دی۔ گوردوارہ صاحب کی اصل عمارت میں داخل ہوں تو دائیں طرف قبر موجود ہے ، یہاں اب بھی مسلمان عقیدت مند جاتے ہیں۔ یہاں آنے والے سکھ بھی پہلے قبرپرکھڑے ہوکر ارداس کرتے ہیں اور پھرسمادھی پر جاتے ہیں۔

باباگورونانک دیو کے مذہب اور عقیدے سے متعلق کئی روایات ملتی ہیں، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسلام کے صوفی ازم سے بہت زیادہ متاثرتھے، تاہم اسلامی عبادات مثلاً نماز،روزہ ،زکوۃ ،حج یہ عمال ادا نہیں کرتے تھے، ان کا آبائی مذہب ہندوتھا لیکن ان کی تعملیات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ ہندوازم کو بھی نہیں مانتے تھے، اس لیے انہوں نے ایک ایسے مذہب کی بنیاد رکھی جس میں اسلام اور ہندوازم دونوں کے طریق شامل تھے۔ اسے بعد میں سکھ دھرم کا نام دیا گیا۔

ڈکشنری آف اسلام میں لکھا ہے کہ جب باباگورونانک اور شیخ بابا فریدؒ نے اکھٹے سفر اختیار کیا تو ایک گاؤں بسیار نامی میں پہنچے، دونوں بزرگ جس جگہ بیٹھتے تو ان کے اٹھ جانے کے بعد وہاں کے ہندو لوگ اس جگہ کو گائے کے گوبر سے لپائی کرکے پاک کردیتے تھے۔ اس سے واضع ہوتا ہے کہ شدت پسند مذہب کے ہندو ان دونوں رفیقوں کی نشت گاہوں کو ناپاک خیال کرتے تھے۔ اگر بابا نانک مذہب کے لحاظ سے ہندو رہتے تو ان سے متعلق ایسی باتوں کا ذکر نہ ملتا۔

پروفیسر جوگندر سنگھ نے لکھتے ہیں کہ ایک مسلمان فقیر نے گوروجی کے والد صاحب کو آپ کی پیدائش کی بشارت دی تھی۔ وہ شیخ بابا فرید ثانی اور باباگوروو نانک جی کی دوستی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ گورو نانک کا مذہب ملاپ ایکتا تھا، انہوں نے اسلام کی تعلیم میں وہ کچھ دیکھا جو دوسرے ہندوؤں کو بہت کم نظر آتا تھا۔ گورو جی کو مسلمانوں سے میل جول کرکے خوشی محسوس ہوتی تھی۔

شیخ بابا فریدؒ دس سال تک ان کے ساتھ مل کر لوگوں کو اللہ تعالی کی راہ میں بلاتے تھے۔ اسی طرح ایک اورمورخ ڈاکٹر تارا چند جی کا بیان ہے کہ بابا گورونانک بانی اسلامی حضرت محمدؐ کی تعلیم اور اسلام سے بے حد متاثر تھے اورانہوں نے اپنے آپ کو اس رنگ میں پورے طور پر رنگ لیا تھا، آریہ سماج کے سیکرٹری سرگوکل چند نیرنگ نے اپنی انڑو ڈکشنری آف سکھ ازم میں کہا ہے کہ بابا نانک جی ہندو یوگیوں کے پاس جب جایا کرتے تھے تو ان کی تردید کیا کرتے تھے۔

چنانچہ یوگیوں سے اپنی کامیاب گفتگو کے بعد گوتوو جی نے مکہ معظمہ کی زیارت کا ارادہ کیا جو مسلمانوں کا کعبہ ہے۔ انہوں نے مسلمان حاجیوں جیسا لباس پینا ، فقر کا عصاء ہاتھ میں لیا اور اپنی کتاب مناجات کا مجموعہ بغل میں دبایا۔ انہوں نے اپنے ساتھ مسلمان متقی کے انداز میں ایک لوٹا اور نماز کے لے مصلے لیا، جس پر نماز ادا کرسکیں اور جب وقت ہوا تو انہوں نے دیگر مسلمانوں کی طرح جو پیغمبرؐ اسلام کے پیروکار ہیں نماز کے لیے اذان بھی دی۔

ایک مشہور ہندو تاریخ دان ڈاکٹر تارا چند جی بیان کرتے ہیں یہ حقیقت واضح ہے کہ بابا گورو نانک صاحب حضرت محمدؐ بانی اسلام کی تعلیم اوراسلام سے بے حد متاثر تھے اور انہوں نے اپنے آپ کو اس رنگ میں پورے طور پر رنگین کر لیا تھا۔ ایک ہندو محقق ڈاکٹر ایس رادھا کرشن نے اس بارے میں یہ بیان کیا ہے کہ باباگورو نانک جی اسلام مذہب کے مسئلہ توحید سے بے حد متاثر تھے اور انہوں نے بت پرستوں کو سرزنش کی۔ خدائے تعالی واحد اور یگانہ ہے اور وہ انصاف بھرا پیار کرنے والا ہے، نیک اور بے عیب ہے ، غیر مجسم ہے اور غیر محدود ہے۔ پیار اور نیکی کی پرستش چاہتا ہے۔ یہی عقیدہ سکھ دھرم میں مقدم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں