New Indian strain of coronavirus

کورونا وائرس کی نئی انڈین قسم: کیا ویکسینز اس کے خلاف مؤثر ہوں گی؟

انڈیا میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے بارے میں دنیا بھر کے سائنسدان تحقیق کر رہے ہیں لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کتنا زیادہ پھیل چکا ہے اور کیا یہی درحقیقت انڈیا میں دوسری لہر پھیلانے کا موجب بنا ہے۔

انڈین قسم کیا ہے؟

وائرس اپنی ہیت ہر وقت تبدیل کر رہے ہوتے ہیں اور اس میں ایسی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ ان تبدیلیوں میں سے زیادہ تر معمولی ہوتی ہیں اور کئی تو ایسی ہوتی ہیں جن کے باعث وائرس مزید غیر موثر ہو جاتا ہے، لیکن دوسری جانب کچھ تبدیلیاں ایسی ہوتی ہیں جو وائرس کو زیادہ وبائی بناتی ہیں اور ویکسین کے ذریعے انھیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

باضابطہ طور پر کورونا وائرس کی اس قسم کو B1617 کہا جاتا ہے اور گذشتہ برس اکتوبر میں اس کی دریافت ہوئی تھی۔

وائرس کی یہ قسم کتنی پھیل چکی ہے؟

انڈیا میں نمونوں کی جانچ اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہو رہی جس کی مدد سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ قسم کتنی پھیل چکی ہے۔

رواں برس ریاست مہاراشٹرا میں جنوری سے مارچ کے دوران 361 نمونوں میں سے 220 نمونوں میں انڈین قسم کی تشخیص ہوئی تھی۔

دوسری جانب صحت کے حوالے سے تحقیق کرنے والے ایک عالمی ادارے جی آئی ایس اے آئی ڈی کے مطابق یہ قسم اب تک دنیا کے 21 ممالک میں شناخت ہو چکی ہے۔

خدشہ ہے کہ بین الاقوامی مسافروں کی وجہ سے وائرس کی یہ قسم برطانیہ پہنچی ہے جہاں 21 فروری کے بعد سے اب تک کم از کم 103 متاثرین کی شناخت ہوئی ہے جو کورونا کی انڈین قسم سے متاثر ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ 23 اپریل (آج) سے انڈیا سے مسافروں پر برطانیہ جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

Genome sequencing lab in India
،تصویر کا کیپشنسائنسدانوں کے مطابق کورونا وائرس کی انڈین قسم کے حوالے سے موجود ڈیٹا نامکمل ہے

انگلینڈ میں صحت عامہ کے ادارے نے انڈین قسم کو اس فہرست میں شامل کیا ہے جسے ’وہ اقسام جن پر تفتیش کی جا رہی ہے‘ کہتے ہیں لیکن اسے وہ اتنا خطرناک نہیں گردانتے کہ اسے اُس دوسری فہرست میں شامل کریں جس میں ’پریشان کن اقسام‘ شامل ہیں۔

کیا یہ قسم زیادہ موذی یا زیادہ وبائی ہے؟

سائنسدان ابھی وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ قسم زیادہ وبائی ہے یا ویکسینز کا اس پر کم اثر ہوتا ہے۔

امریکہ کی لوئیزیانا سٹیٹ یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر جریمی کامل کہتے ہیں کہ اس قسم کی ہیت ان دو اقسام جیسی ہیں جن کی شناخت برازیل اور جنوبی افریقہ میں ہوئی تھی۔

اور ممکن ہے کہ وائرس کی یہ قسم وائرس کو جسم کے مدافعتی نظام کے ذریعے بننے والی اینٹی باڈیز سے محفوظ رکھتی ہے، وہ اینٹی باڈیز جن کا کام کورونا وائرس سے لڑنا ہے۔

لیکن جو زیادہ پریشان کُن بات ہے وہ یہ کہ برطانیہ سے دریافت ہونے والی قسم اب دنیا کے 50 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکی ہے۔

ڈاکٹر کامل کہتے ہیں کہ انھیں نہیں لگتا کہ ’انڈین قسم برطانوی قسم سے زیادہ وبائی ہے اور ضروری یہ ہے کہ ہم پریشان نہیں ہوں۔‘

A woman mourns with her son after her husband died due to the coronavirus disease (COVID-19) outside a mortuary of a COVID-19 hospital in Ahmedabad, India, April 20, 2021

ہم اس قسم کے بارے میں اتنا کم کیوں جانتے ہیں؟

سائنسدانوں کے مطابق کورونا وائرس کی انڈین قسم کے حوالے سے موجود ڈیٹا نامکمل ہے اور اس کے بہت کم نمونے تحقیق کے لیے دیے گئے ہیں جیسا کہ انڈیا میں صرف 298 نمونے جبکہ 656 نمونے دنیا بھر میں۔

دوسری جانب برطانوی قسم کے 384000 نمونے تحقیق کے لیے دیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر کامل کہتے ہیں کہ انڈیا میں دریافت ہونے کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں صرف 400 ایسے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے جن کو انڈین قسم لگی تھی۔

لیکن کیا یہ قسم انڈیا میں دوسری لہر کا باعث بنی ہے؟

اپریل کی 15 تاریخ کے بعد سے انڈیا میں روزانہ دو لاکھ سے زیادہ متاثرین کی تشخیص ہو رہی ہے جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جب پہلی لہر میں سب سے زیادہ یومیہ متاثرین کی تعداد 93 ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔

اور اس کے ساتھ ساتھ اموات کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

یونیورسٹی آف کیمبرج سے میں کلینکل مائیکرو بائیولوجی کے پروفیسر روی گپتا کہتے ہیں کہ انڈیا کی بڑی اور گنجان آبادی اس وائرس کے لیے ایک تجربہ گاہ بن گئی جہاں اس وائرس نے اپنی نئی قسم کو ڈھال لیا۔

لیکن یہ بھی بہت ممکن ہے کہ انڈیا میں متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ وہاں لوگوں کا بڑی تعداد میں میل جول کرنا اور حفاظتی تدابیر جیسے ماسک پہننا اور سماجی فاصلے برقرار رکھنے جیسی چیزوں کا خیال نہ کرنا ہو سکتا ہے۔

وائرس

ویلکم سانگر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر جیفری بیرٹ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی انڈین قسم کی دریافت گذشتہ سال ہوئی تھی۔

‘اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ یہی قسم انڈیا میں دوسری لہر کی وجہ بنا ہے تو اس کو کئی ماہ لگے ہیں اس نہج تک پہنچنے پر، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاید برطانوی قسم کے مقابلے میں یہ کم وبائی ہے۔‘

تو کیا اس کے مقابلے میں ویکسینز اپنا اثر دکھا سکیں گی؟

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ موجودہ ویکسینز کورونا وائرس کی انڈین قسم سے ہونے والی شدید بیماری کو روک سکتی ہیں۔

پروفیسر روی گپتا اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے تحریر کیے گئے ایک مقالے کے مطابق کچھ اقسام ایسی ضروری ہوں گی جو موجودہ ویکسینز کو غیر موثر ثابت کر دیں اور شاید ویکسینز کے ڈیزائن کو تبدیل کرنا پڑے تاکہ انھیں زیادہ موثر بنایا جائے۔

لیکن یہ یقیناً کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ ویکسینز بیماری کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں ضرور مدد دے سکتی ہیں۔

ڈاکٹر کامل کہتے ہیں کہ اکثریت کے لیے ان ویکسینز کا مطلب ہے کم شدت والی بیماری، بجائے ایسی صورتحال جس میں مریض کو نہ صرف ہسپتال جانا پڑے بلکہ اس کی جان کو بھی خطرہ ہو۔’

’خدارا جو بھی ویکسین ملے، اسے ضرور لگوا لیں۔ یہ انتظار کرنے کی غلطی بالکل نہ کریں کہ آپ کو بالکل موزوں ویکسین ملے گی تو لگوائیں گے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں