joe-biden-1st-speech-as-usa-president

نسلی تعصب دوبارہ سر نہیں‌ اٹھائے گا، ہمیں‌ مل کر کرونا سے لڑنا ہے، امریکی صدر جوبائیڈن

واشنگٹن: امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن نے عہدے کا حلف اٹھا لیا جس کے بعد وہ امریکا کے 46ویں صدر بن گئے۔

حلف اٹھانے کے بعد تقریر کرتے ہوئے جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ’آج کا دن امریکا اور جمہوریت کا دن ہے، ہمیں مختلف چیلینجز کا سامنا ہے جس کا مل کر مقابلہ کریں گے‘۔

خطاب کے اہم نکات

•کیپٹل ہل حملے نے جمہوریت کی بنیادی ہلا کر رکھ دی تھیں

•جمہوریت سربلند ہوئی، نصب العین کی فتح ہوئی

•امریکا کے آئین کی طاقت پر یقین رکھتا ہوں

•ہمیں مل کر نفرت، تعصب، نسل پرستی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہے

•تاریخ، عقیدے اور دلیل سے امریکا کو متحد کریں گے

•کرونا کی وجہ سے اتنی ہلاکتیں ہوئیں جتنی جنگ میں بھی نہیں ہوتیں

•کرونا کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی، بے روزگاری میں اضافہ ہوا

•ہم ایک مرتبہ پھر امریکا کو دنیا میں اچھائی کی سب سے بڑی طاقت بنائیں گے

•ہم متحد ہونا ہوگا، مخالفین کا احترام کرتا ہوں، یہی جمہوریت ہے

•اختلاف کرنے والوں کو بات چیت کی دعوت دیتا ہوں

•اختلافات لڑائی اور جنگ کے بغیر بھی حل کیے جاسکتے ہیں

اُن کا کہنا تھا کہ  جمہوریت انمول اور جمہوریت نازک ضرور ہے مگر آج بھی جمہوریت ہی سربلند ہے، ہم جمہوریت کی بنیادوں اور اتحاد کی بحالی کےلئےکام کریں گے،میں اپنی پارٹی کے پہلے دو صدور کی گراں قدرخدمات کو سراہتا ہوں، آج ہم ایک امیدوار نہیں بلکہ اپنےنصب العین کی فتح کاجشن منارہےہیں کیونکہ آج شخصیات کی نہیں جمہوریت اورجمہوری عمل کی فتح ہوئی ہے۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ’چندروزپہلےکیپٹل ہل حملےنےجمہوریت کی بنیادی ہلا کر رکھ دی تھیں، امریکاکی کہانی کسی ایک پرنہیں ہم سب منحصر ہے، آج پورےامریکاکوپھرسےمتحدکرنےکا دن ہے کیونکہ یہ عظیم لوگوں کا ملک ہے اور ہمارے درمیان بہترین روابط بھی ہیں‘۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ’میں امریکا کے آئین کی طاقت پریقین رکھتاہوں،ہمیں مل کر نفرت، تعصب، نسل پرستی، انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہے،تاریخ، عقیدے اور دلیل کےساتھ ہم امریکاکو ایک بار متحدکریں گے‘۔

’آج کا دن وہ ہے، جب ہمیں ریاست ہائے متحدہ امریکا بنناہوگا، ہمیں اختلافات کو جنگ میں نہیں بدلناچاہیے‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’کرونا کی وجہ سے اتنی اموات ہوئیں جتنی جنگوں میں بھی نہیں ہوئیں، کوویڈ کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی، بے روزگاری میں اضافہ ہوا، ہم متحدہوکر ہی دہشت گردی اورکروناجیسی وبا کا مقابلہ کرسکتےہیں‘۔

’میری روح قومی اتحاد کے مقصد سےجڑی ہوئی ہے،امریکا کو ایک بار پھرصف اول کی طاقت بناسکتے ہیں،ہم ایک مرتبہ پھر امریکا کو دنیا میں اچھائی کی سب سے بڑی طاقت بنائیں گے،ہم سب کا ایک ہوناہی آگےجانےکاراستہ ہے،ہم ایک دوسرےکے ساتھ عزت و احترام سے پیش آسکتے ہیں، میں پورے امریکا کا صدر ہوں،کوئی تفریق نہیں کروں گا، اختلاف رکھنے والوں کا بھی احترام ہےکیونکہ یہ ہی جمہوریت ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم سب ایک مرتبہ پھر متحد ہوکر امن قائم کرسکتے ہیں، نسلی تعصب کا امتیاز اب دوبارہ سر نہیں اٹھائےگا، ہمیں ایک دوسرےکو عزت اورایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہوگا، امریکاہمیشہ مشکل حالات میں سرخرو ہو کر نکلتا رہا ہے، جو میرے خلاف ہیں میں انہیں بات چیت کی دعوت دیتا ہوں، آئیں بات کریں اور مسئلے کا حل نکالیں، جانتاہوں ہمیں تقسیم کرنے والی طاقتیں مضبوط ہیں، ہمیں اختلافات بغیر لڑائی اور تشدد کے بھی حل کیےجاسکتے ہیں‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں