causes-of-epilepsy

مرگی کیا ہے اور دورہ پڑنے پر مریض کی کس طرح مدد کی جائے؟

مرگی ایک دماغی مرض ہے جس میں دماغ اپنے معمول کی سرگرمی سے اچانک ہٹ جاتا ہے جس کے نتیجے میں مریض کو جھٹکے لگتے ہیں اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑتا ہے۔

ایپی لپسی فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر اور نیورولوجسٹ فوزیہ صدیقی شریک ہوئیں جنہوں نے اس مرض کے بارے میں بتایا۔ فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ مرگی ایک قابل علاج مرض ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارا جسم ایک مشین کی طرح ہے اور دماغ اس کا مدر بورڈ ہے جس میں مختلف کنیکشنز موجود ہیں۔

فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ بالکل کسی بجلی کے سوئچ بورڈ جیسا ہے، جس میں کبھی کوئی ایک کرنٹ ادھر سے ادھر ہوجائے تو مذکورہ کنیکشن جل بجھ ہونے لگتا ہے، اسی طرح دماغ کا کنیکشن بھی ادھر ادھر ہوجائے تو اس سے متصل جسم کا عضو جھٹکے لینے لگتا ہے، اس کے بعد جسم کا خود کار دفاعی نظام اسے شٹ ڈاؤن کردیتا ہے جس کے بعد مریض بے ہوش ہوجاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت میں مرگی کا شکار افراد کی شرح کل آبادی کے 1 یا 2 فیصد ہے جبکہ مغربی ممالک میں 0.5 ہے، پاکستان میں خصوصاً بچے مرگی کا زیادہ شکار ہورہے ہیں۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا تھا کہ ماؤں کا دوران حمل خیال نہیں رکھا جاتا، ان کی خوراک کا اور صحت کا بہت زیادہ خیال رکھا جانا چاہیئے۔ دوران حمل معمولی سی بھی طبیعت خراب ہو تو ڈاکٹر سے پوچھے بغیر کوئی دوا نہ لی جائے کیونکہ اس کا اثر شکم میں زیر نشونما بچے کے دماغ پر پڑتا ہے اور دماغ کی بناوٹ میں تبدیلی آتی ہے۔

علاوہ ازیں پیدائش کے فوری بعد بچے کو آکسیجن نہ ملے تب بھی دماغ مرگی کا شکار ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر فوزیہ نے مرگی سے متعلق بہت سے توہمات کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اسے بھوت، پریت یا آسیب کا شاخسانہ سمجھا جاتا ہے، یہ بالکل ایسا ہی قابل علاج مرض ہے جیسا بخار یا بلڈ پریشر۔

علاوہ ازیں مرگی کا دورہ پڑے تو مریض کے منہ میں کپڑا نہیں ٹھونسنا چاہیئے، ایسے موقع پر اس کے گلے کے گرد اسکارف یا ٹائی کو ڈھیلا کردیں، اس کے ارد گرد سے نوکیلی اشیا دور ہٹا دیں تاکہ وہ زخمی نہ ہو، اور کروٹ کے بل لٹا دیں تاکہ زبان حلق میں نہ جائے۔

انہوں نے بتایا کہ منہ میں کپڑا ٹھونسنے سے سانس رک سکتی ہے اور مریض کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ مرگی کا دورہ 2 سے 3 منٹ پر مشتمل ہوتا ہے اس وقت کو گزر جانے دیں اور اسے روکنے کی کوشش نہ کریں، روکنے کی صورت میں یہ دورہ طویل ہوسکتا ہے۔ 2 سے 3 منٹ تک دورہ پڑنے کے بعد مریض بے ہوش ہوجاتا ہے اگر نہ ہو تو اسے فوری طور پر اسپتال کی ایمرجنسی میں لے کر جایا جائے۔

ڈاکٹر فوزیہ نے مزید کہا کہ مرگی کے مریضوں کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیں اپنے ساتھ رکھنی چاہئیں اور ہاتھ پر بینڈ باندھنا چاہیئے جس پر ان کی بیماری کے بارے میں تحریر ہو اور بتایا گیا ہو کہ دورہ پڑنے کی صورت میں ان کے پاس موجود دوا انہیں کھلا دی جائے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں