Cardiac arrest

کارڈیک اریسٹ یا حرکت قلب بند ہونے کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟

ڈنمارک کے فٹ بال کے کھلاڑی کرسٹین اریکسن گزشتہ ہفتے یورپ کے فٹ بال مقابلوں ‘یورپین چیمپیئن شپ’ ایک میچ کے دوران دل کی دھڑکن اچانک بند ہونے سے بیہوش ہو گئے تھے جس کے بعد وہ تین راتیں ہسپتال میں گزار چکے ہیں جہاں ان کے دل کے مختلف ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں

لیکن ڈاکٹر ابھی یہ معلوم نہیں کر سکے ہیں کہ اچانک ان کے دل کی دھڑکن کیوں ڈوب گئی تھی اور سردست ‘کارڈیک اریسٹ’ یا حرکت قلب کے عارضی طور پر ڈوب یا بند ہو جانے کی وجہ معلوم کرنا ان کی پہلی ترجیح ہے

فٹ بال ایسوسی ایشن کے دل کے امراض کی کمیٹی کے چیئرمین اور دل کے امراض کے ماہر پروفیسر سنجے شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ایک 29 سالہ نوجوان زندگی اور موت کی کشمکش سے گزرا۔’ ‘ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ اصل میں ہوا کیا تھا

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق حرکت قلب رکنے کی ایک بہت عام وجہ جو کہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے وہ دل کی غیر معمولی دھڑکن یا اس میں خلل ہےبرٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق حرکت قلب رکنے کی ایک بہت عام وجہ جو کہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے وہ دل کی غیر معمولی دھڑکن یا اس میں خلل ہے

دل کی حرکت رکنے کی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ ‘کارڈیومایوپیتھی’ ہو سکتی ہے جو کہ موروثی بھی ہو سکتی ہے اور اس میں دل کے پٹھوں پر اثر پڑتا ہے۔ دل کا سائز یا اس کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے اور اس کی شدید صورت ‘مایوکرڈیٹس’ میں دل پر ورم آجاتا ہے

پروفیسر شرما نے کہا کہ ایریکسن کے دل کے اب مزید پیچیدہ سکین کیے جائیں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ دل پر کہیں بہت ہی مہین خراشیں اور کوئی تبدیلیاں تو نہیں ہیں۔ عام طور پر فٹ بال کے کھلاڑیوں کے دل کے جو سکین کیے جاتے ہیں ان میں اس قسم کی علامت ظاہر نہیں بھی ہوتیں

برطانیہ میں اس قسم کے سکین کا کیا جانا لازمی ہے اور یہ سکین سولہ سے 25 برس کی عمر کے درمیان ہر کھلاڑیوں کا ہر دو سال بعد کیا جاتا ہے

اس سکین میں دل کے کام اور دل کی حالت میں تبدیلی کی معمولی سی معمولی سے معمولی علامت کا پتا لگانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس کی سو فیصد گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ ان سکین سے ہر قسم کی پیچیدگیوں کا پتا چل جائے گا۔ 

کارڈیک اریسٹ یا حرکت قلب بند ہونے کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟ 1

 پروفیسر شرما نے بتایا کہ یہ علامات کم عمری یا 16 سے 25 برس کے لوگوں میں اکثر ظاہر نہیں ہوتیں۔ ‘اکثر یہ علامات 25 یا 30 سال سے پہلے ظاہر ہونا شروع نہیں ہوتیں۔’ بعض اوقات یہ علامات فٹ بال کے کھلاڑیوں میں میچ کے دوران ظاہر ہوتی ہیں یا ان کا تعلق کسی حالیہ بیماری اور اس سے دل پر پڑنے والے دباؤ سے بھی ہو سکتا ہے۔ جب کبھی کسی شخص میں ان علامات کی تشخیص ہوتی ہے تو ان میں کچھ کا علاج ہو سکتا ہے یا ان کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے لیکن کچھ پیچیدگیاں لاعلاج ہوتی ہیں اور ان کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ 

حرکت قلب اس وقت رکتی ہے جب دل اچانک انسانی جسم میں خون کی گردش کرنا بند کر دیتا ہے جس سے جسم میں آکسیجن کی کم ہو جاتی ہے اور انسان بے ہوش کر گر سکتا ہے اور سانس لینا بند کر سکتا ہے۔ یہ ہارٹ اٹیک سے مختلف ہوتا ہے جس میں دل کو خون کی فراہمی بند ہو جاتی ہے اور ایسا اکثر کسی ‘کرونری آرٹری’ یا شریان میں خون کا لوتھڑا پھنس جانے سے ہوتا ہے۔ 

شاذ و نادر واقعاتایریکسن واحد فٹ بال کے کھلاڑی نہیں ہے جن کو ‘کارڈیک اریسٹ’ کی شکایت ہوئی ہو۔ سنہ 2012 میں ایک اور فٹ کے کھلاڑی فیبرس موامبا بھی میدان میں بے ہوش کر گر پڑے تھے اور ان کے دل کی دھڑکن 78 منٹ تک بحال نہیں ہو سکی تھی۔ مارک ویون فو 28 سال کی عمر میں کیمرون کی طرح سے کھیلتے ہوئے کارڈک ایرسٹ کی وجہ سے مر گئے تھے اور انگلینڈ کے فٹ بال کے سابق کھلاڑی اور ٹوٹنہم فٹ بال کلب کے کوچ یوگ ایہگو کے لیے سنہ 2017 میں 44 سال کی عمر میں دل کا یہ عارضہ جان لیوا ثابت ہوا تھا۔ 

کرسٹل پیلس کے فٹ کلب کے کھیلوں کی ادوایات کے ماہر ڈاکٹر ظفر اقبال نے بتایا کہ ‘انتہائی سخت جسمانی مشقت یا کثرت کھلاڑیوں کے لیے خطرہ بڑھا دیتی ہیں کیونکہ ان کے دل پر ضرورت سے زیادہ دباؤ پڑتا ہے اور اس سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔‘

 ڈاکٹر ظفر کا کہنا تھا کہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ کارڈیک اریسٹ کسی کو کسی بھی وقت ہو سکتا ہے اور ایسا صرف تندرست فٹ بال کے کھلاڑیوں کے ساتھ ہی نہیں ہوتا۔ برطانیہ میں ہر ہفتے 35 برس کی عمر سے کم کے 12 افراد اچانک کارڈیک اریسٹ کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ برطانیہ میں ہر سال 30 ہزار افراد کو کارڈیک اریسٹ کی شکایت ہوتی ہے۔

جن کے نظام تنفس کو فوری طور پر بحال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور صرف دس میں سے ایک شخص ہی جانبر ہوتا ہے۔ فٹ بال کے کھلاڑیوں کے دل عام آدمیوں کے مقابلے میں بڑے ہوتے ہیں اور وہ زیادہ موثر طور پر کام کرتے ہیں جن کی وجہ سے ان میں دل کے امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے، جن میں ‘کارڈیووسکولر ڈیزیز’ یا شریانوں کا بند ہو جانا شامل ہیں۔

سگریٹ نوشی یا غیر صحت بخش خوراک کی زیادتی سے یہ شکایات پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن اگر دل پر کسی اور وجہ سے دباؤ پڑے مثلاً پانی کی کمی، شدید گرمی یا کسی اور بیماری کی وجہ سے تو دل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ہر سیکنڈ اہم ہوتا ہےڈاکٹر اقبال کا کہنا ہے کہ اہم بات یہ ہے کہ ایریکسن کے (سی پی آر) نظام تنفس کو بحال کرنے کی فوری طور کوشش شروع کر دی گئی تھی جس کے بعد اے ای ڈی ‘آٹومیٹڈ ایکسٹرنل ڈیفبرلیٹر’ استعمال کی گئی اور یہ وہ طریقہ ہیں جس کا ہر کسی کو علم ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ڈیفبرلیٹر جس کے ذریعے دل کو برقی جھٹکے دیے جاتے ہیں ہر سکول میں دستیاب ہونے چاہئیں۔

 انھوں نے کہا ہر سیکنڈ کی تاخیر سے زندہ بچنے کے امکانات دس فیصد کم ہوتے جاتے ہیں۔ سی پی آر یا سینے پر دباؤ ڈال کر اور منہ سے پھیپھڑوں میں ہوا بھرنے کا طریقہ استعمال کر کے مریض کی زندگی بچانے کے امکانات دوگنے ہو جاتے ہیں۔

 دل کے امراض کی کنسلٹنٹ اور برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی ایسوسیٹ میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر سونیا بابو نارائن نے کہا ‘جب کسی کو کارڈیک اریسٹ ہوتا ہے تو اس کی زندگی کے لیے ہر گزرتا سیکنڈ بہت اہم ہوتا ہے، اگر ہر کسی کو سی پی آر کرنے کی تربیت حاصل ہو تو بہت سے زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

‘ ڈیفبرلیٹر کی مشینیں اکثر ہوائی اڈوں، شاپنگ سینٹروں، کمیونٹی سینٹروں اور کام کی جگہوں پر دستیاب ہوتی ہیں۔ ان مشینوں کو ہر کوئی استعمال کر سکتا ہے اور اس کو غلط طریقہ سے استعمال کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ مشین صرف اسی صورت میں دل کو برقی جھٹکا دیتی ہے اگر یہ محسوس کرے کہ دل کو اس کی ضرورت ہے اور دھڑکن ڈوب رہی ہے۔ 

Partner Content: BBC Urdu

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں