لاہور: منشیات کی دنیا کی مبینہ کوئین ‘انمول پنکی’ کے حالیہ بیان “ہم تو ڈوبے ہیں صنم، سب کو لے ڈوبیں گے” نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ سینئر صحافی رضوان جرال کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے صحافی تہمینہ نے اس جملے کی گہرائی پر سے پردہ اٹھایا ہے۔
صحافی تہمینہ کا کہنا تھا کہ انمول پنکی کے اس جملے کا اشارہ دراصل ان کے ارد گرد موجود ‘پنکوں’ (سہولت کاروں اور پشت پناہی کرنے والوں) کی طرف ہے، جنہوں نے اسے منشیات کی دنیا کی کوئین بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پنکے اداروں سے تعلق رکھتے ہیں، پرائیویٹ لوگ ہیں یا بین الاقوامی سطح کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں، اس کا حتمی فیصلہ تو تفتیش اور پنکی خود ہی کر سکتی ہے، لیکن یہ طے ہے کہ وہ مقتدر حلقے اتنے طاقتور ضرور تھے جنہوں نے پنکی کو فرش سے عرش تک پہنچایا۔
پنکی کا اشارہ کس طرف؟ pic.twitter.com/nOj0Cy8CYI
— Neo News (@NeoNewsUR) May 17, 2026
تہمینہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پنکی شاید یہ بھول گئی تھی کہ “جن کے ہاتھ میں ریموٹ ہوتا ہے، انہیں ریموٹ استعمال کرنا بھی آتا ہے، اور جو سیڑھی چڑھاتے ہیں وہ سیڑھی کھینچنا بھی جانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں ایسی ‘پنکیاں’ ہمیشہ مہرہ بنائی جاتی ہیں، جنہیں استعمال کرنے کے بعد سائیڈ پر کر کے اگلے مہرے کی تلاش شروع کر دی جاتی ہے۔
وی لاگ کے دوران تہمینہ نے انمول پنکی کی نجی زندگی کے حوالے سے بھی سنسنی خیز انکشافات کیے اور بتایا کہ انہوں نے تقریباً چار سے پانچ شادیاں کر رکھی ہیں۔ جب رضوان جرال نے تفتیش میں سامنے آنے والے مبینہ ناموں کے بارے میں پوچھا، تو تہمینہ نے انکشاف کیا کہ اس نیٹ ورک کی تاریں شوبز انڈسٹری سے لے کر ‘اڈیالہ جیل’ والی سائیڈ تک جڑے ہوئی ہیں، جس سے اس کیس کے مزید ہائی پروفائل ہونے کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔