افغان طالبان کے نئے قوانین یورپی پارلیمنٹ میں مسترد؛ طالبان رجیم کو تسلیم نہ کرنے کی قرارداد منظور

افغان طالبان کے نئے قوانین یورپی پارلیمنٹ میں مسترد؛ طالبان رجیم کو تسلیم نہ کرنے کی قرارداد منظور

اسلام آباد: افغانستان کی طالبان حکومت کو عالمی محاذ پر اس وقت شدید سبکی اور سفارتی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے جب یورپی پارلیمنٹ نے طالبان کی انتہا پسند پالیسیوں اور نئے فوجداری ضابطے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بھاری اکثریت سے ایک سخت قرارداد منظور کر لی ہے۔

اس قرارداد کے حق میں 480 ارکان نے ووٹ دیا، جس میں طالبان رجیم کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی، دہشت گردی اور سنگین معاشی بحران پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ارکانِ پارلیمنٹ نے طالبان کے موجودہ عدالتی و فوجداری نظام کو خواتین کے منظم استحصال، غلامی اور صنفی امتیاز پر مبنی قرار دیا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ طالبان رجیم عوامی سزاؤں، سرعام پھانسیوں اور دیگر سخت ترین اقدامات کو فوری طور پر روکے اور اس متنازعہ فوجداری ضابطے کو فی الفور منسوخ کرے۔
یورپی اداروں اور رکن ممالک سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ موجودہ افغان حکومت کو تسلیم نہ کریں اور ان کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ لائے جائیں۔ اس کے علاوہ، یورپی پارلیمنٹ نے طالبان رہنماؤں پر مزید سخت سفارتی پابندیاں عائد کرنے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے طالبان کے سپریم لیڈر اور چیف جسٹس کے خلاف جاری کردہ وارنٹس پر عملدرآمد کروانے پر بھی زور دیا ہے، جس نے طالبان کی عالمی قانونی حیثیت کو براہِ راست چیلنج کر دیا ہے۔
عالمی جریدے ‘یوریشیا ریویو’ کے مطابق، 119 دفعات پر مشتمل یہ نیا فوجداری ضابطہ افغانستان میں انسانی حقوق کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر رہا ہے۔ دفاعی و سیاسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں عوامی رائے کے بجائے جبراً فیصلے مسلط کرنے کی یہ روایت اور متعدد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، جو افغان سماج کی ترقی کو روک کر نئی نسل کو خوف اور انتہا پسندی کے ماحول میں دھکیل رہی ہے۔