کراچی : فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے زیرِ اہتمام وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں تاجر رہنماؤں نے ملکی سلامتی اور معاشی صورتحال پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز تاجر رہنما ایس ایم تنویر نے کہا کہ فیلڈ مارشل کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے انعام کے طور پر عطا کیا ہے، ہماری دعا ہے کہ اللہ انہیں کامیاب کرے۔ انہوں نے مزید کہاملٹری کے حوالے سے ہم ایشین ٹائیگر بن چکے ہیں، اب ہمارا اگلا ہدف معیشت کا ایشین ٹائیگر بننا ہے۔محسن نقوی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “محسن اسپیڈ” شہباز اسپیڈ سے بھی زیادہ تیز ہے۔بھارت کے حملے کے بعد پاکستانی پاسپورٹ کی جو عزت بحال ہوئی وہ باعثِ فخر ہے۔
ایس ایم تنویر نے معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 3 سال بہت برے گزرے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 50 فیصد انڈسٹری بند پڑی ہے اور ایف بی آر کی جانب سے ہراساں کیے جانے اور عدالتوں کے احکامات کے غلط استعمال سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے آئی ایم ایف کے نام پر لگائے گئے ایڈوانس ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف خود اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ملک کو 10 سالہ لانگ ٹرم انڈسٹریل پالیسی کی ضرورت ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال پہلے سے بہتر ہے، تاہم کچھ مسائل اب بھی درپیش ہیں۔وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ سرحدی علاقوں میں کثرت سے قائم چیک پوسٹیں مال کی ترسیل میں تاخیر کا سبب بنتی ہیں، جبکہ شہروں میں اسٹریٹ کرائم کاروبار کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ بزنس کمیٹی نے وزارتِ داخلہ کے ساتھ باقاعدہ بیٹھک اور مشاورت کی خواہش کا اظہار کیا۔
تقریب میں ڈاکٹر گوہر اعجاز، خالد تواب اور امان پراچہ سمیت صنعت و تجارت کی دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی اور ملک کی معاشی ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔