پٹرول اور ڈیزل پر لیوی 160 روپے تک لے جانا حکومت کی مجبوری ہے وزیر پٹرولیم کا اعتراف

پٹرول اور ڈیزل پر لیوی 160 روپے تک لے جانا حکومت کی مجبوری ہے وزیر پٹرولیم کا اعتراف

اسلام آباد: وفاقی وزیر مملکت برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کے اجلاس میں بڑا انکشاف کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ‘پٹرولیم لیوی’ ہے اور اسے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے اہداف کے مطابق 160 روپے فی لیٹر تک بڑھانا حکومت کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر پٹرولیم نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی میں اضافہ کرنا حکومت کی خوشی نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے تحت ایک کڑی شرط ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو ریونیو اہداف حاصل کرنے کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر لیوی کی شرح کو بتدریج 160 روپے تک پہنچانا ہوگا۔
 پٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ قیمتوں کو برقرار رکھنے یا بڑھانے کا بنیادی سبب ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ فریم ورک کے تحت لیوی کی حد 160 روپے مقرر کی گئی ہے۔وزیر پٹرولیم کے مطابق، ملکی معیشت کو سہارا دینے اور آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی کے لیے ان سخت شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے۔
کمیٹی کے ارکان نے لیوی کے اس بھاری ہدف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صرف ٹیکس (لیوی) کی مد میں 160 روپے وصول کیے گئے، تو عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستانی صارفین کو پٹرول سستا نہیں مل سکے گا، بلکہ اس سے ٹرانسپورٹیشن اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ متوقع ہے۔