پوست کے خاتمے کی آڑ میں نہتے شہریوں کا قتل عام

پوست کے خاتمے کی آڑ میں نہتے شہریوں کا قتل عام

کابل: افغانستان میں قابض طالبان انتظامیہ کی جانب سے اپنے ہی عوام پر ظلم و ستم کی نئی لہر سامنے آئی ہے۔ پوست کی کاشت ختم کرنے کے نام پر نہتے شہریوں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جا رہا ہے، جس نے افغان طالبان کے عوامی دشمن ہونے کے تاثر کو مزید تقویت دی ہے۔
 مقامی ذرائع کے مطابق، طالبان رجیم نے پوست کی فصلوں کی تلفی کے بہانے عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ طالبان انتظامیہ پر الزام ہے کہ وہ طاقت کے زور پر شہریوں کے ذاتی اثاثوں اور قیمتی وسائل پر قابض ہو رہی ہے، جس کے باعث مقامی آبادی میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔
 وسائل پر قبضے کے تنازع نے مسلح تصادم کی شکل اختیار کر لی ہے۔ افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان جنگجوؤں اور مقامی رہائشیوں کے درمیان خونی جھڑپیں جاری ہیں، جہاں شہری اپنے حقوق اور جائیدادوں کے تحفظ کے لیے میدان میں نکل آئے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ طالبان رجیم اپنے ہی شہریوں کے خلاف ‘ریاستی دہشت گردی’ کی مرتکب ہو رہی ہے اور عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔