ماسکو/واشنگٹن:روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے ساتھ چار سالہ طویل جنگ کے خاتمے کا اب تک کا مضبوط ترین اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازع اب اپنے “منطقی انجام” کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ماسکو میں ‘یومِ فتح’ (Victory Day) کی تقریبات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ یوکرین بحران اب ایک نتیجے کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سہولت کاری کے شکر گزار ہیں۔
یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر کی تجویز پر روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ عارضی جنگ بندی نافذ ہے، جس کا مقصد بڑے پیمانے پر قیدیوں کا تبادلہ اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ صدر پیوٹن نے انکشاف کیا کہ سلوواکیہ کے وزیراعظم روبرٹ فیکو کے ذریعے انہیں یہ پیغام ملا ہے کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی براہِ راست ملاقات کے لیے تیار ہیں، تاہم روسی صدر نے واضح کیا کہ یہ ملاقات صرف ایک ٹھوس اور دیرپا امن معاہدے کی صورت میں ہی ممکن ہوگی۔
روسی صدر نے مزید کہا کہ اب یہ معاملہ بنیادی طور پر صرف روس اور یوکرین کے درمیان رہ گیا ہے۔ انہوں نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے جلد خاتمے کی امید بھی ظاہر کی۔
اقتصادی محاذ پر صدر پیوٹن نے ایک اور بڑی خبر دیتے ہوئے بتایا کہ روس اور چین توانائی کے شعبے، بالخصوص تیل اور گیس کی فراہمی کے ایک “انتہائی سنجیدہ” اور تاریخی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس معاہدے (پاور آف سائبیریا 2) سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات ایک نئی بلندی پر پہنچ جائیں گے اور روس کی توانائی کی برآمدات کا رخ مکمل طور پر ایشیا کی جانب مڑ جائے گا۔