لاہور/کراچی :کراچی میں گرفتار منشیات فروش انمول عرف پنکی کے لاہور کنکشن اور پولیس اہلکاروں کی مبینہ سرپرستی کے انکشافات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے معاملے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ایک خفیہ ادارے کو ملزمہ کے نیٹ ورک اور اس کے خلاف درج مقدمات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ انسدادِ جرائم (CCD) نے لاہور میں درج مقدمے پر باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں کراچی پولیس ملزمہ کے مبینہ شوہر اور سابق پولیس انسپکٹر رانا اکرم سے تفتیش پر غور کر رہی ہے۔ سی سی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ سابق انسپکٹر سے ملزمہ کی گرفتاری، رہائی اور اس کے بعد ہونے والی شادی کے حوالے سے سخت پوچھ گچھ کی جائے گی۔
تحقیقات میں یہ چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں کہ لاہور کے نارکوٹکس انویسٹی گیشن یونٹ (NIU) نے ملزمہ کو گرفتار کرنے کے بعد مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی اور اسے ریلیف دیا۔ تفتیش کے دوران ہی انسپکٹر رانا اکرم اور ملزمہ کے درمیان مراسم بڑھے جو شادی میں بدل گئے۔ الزام ہے کہ این آئی یو کے اہلکاروں نے ہی ملزمہ کو کوکین بنانے کے جدید طریقے سکھائے، جس کے بعد اس نے کراچی میں اپنا نیٹ ورک پھیلایا۔
کراچی پولیس تفتیش کے دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے انمول عرف پنکی کو لاہور لانے پر غور کر رہی ہے تاکہ یہاں موجود اس کے سہولت کاروں کی نشاندہی کی جا سکے اور سابقہ ریکارڈ کے ساتھ اس کا آمنا سامنا کرایا جا سکے۔
اس ہائی پروفائل کیس نے پولیس فورس کے اندر موجود کالی بھیڑوں اور منشیات فروشوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے، جس کے بعد بڑے پیمانے پر محکمانہ کارروائیوں کا امکان ہے۔