ایران امریکہ مذاکرات کے بعد کی صورتحال اور جنگ بندی میں توسیع پر مشاورت ہوگی، وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام کی شرکت
اسلام آباد :مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کی بحالی کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس آج طلب کر لیا ہے، جس میں اہم تزویراتی فیصلے متوقع ہیں۔
اجلاس کا ایجنڈا اور شرکاء حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں وفاقی کابینہ کے سینئر اراکین، خارجہ امور کے ماہرین اور اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔ اجلاس کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
خطے میں جاری کشیدگی کو روکنے کے لیے جنگ بندی پر عملدرآمد اور اس کی مدت میں توسیع کے حوالے سے پاکستان کے ممکنہ کردار پر غور ہوگا۔
عالمی سطح پر پاکستان کی مصالحتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔پاکستان کا کلیدی کردار سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے بعد اب پاکستان کا فوکس اس عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے پر ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اس اجلاس میں شرکاء کو اپنی حالیہ سفارتی رابطوں اور عالمی رہنماؤں سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں بھی اعتماد میں لیں گے۔
علاقائی استحکام کی اہمیت اجلاس میں اس بات پر زور دیا جائے گا کہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام نہ صرف عالمی امن بلکہ پاکستان کے معاشی اور تزویراتی مفادات کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ پاکستان اس وقت خطے میں ایک معتبر ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے اور آج کا اجلاس اس سلسلے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔