موسمیاتی تبدیلی، رہائشی ناانصافی اور غربت ایک دوسرے سے جڑے ہیں، پاکستان کی 55 فیصد شہری آبادی کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور: مصدق ملک

موسمیاتی تبدیلی، رہائشی ناانصافی اور غربت ایک دوسرے سے جڑے ہیں، پاکستان کی 55 فیصد شہری آبادی کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور: مصدق ملک

باکو:وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، رہائشی ناانصافی اور غربت کے مسائل ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے ہیں اور یہ دنیا کے لیے صرف ہاؤسنگ کا بحران نہیں بلکہ بنیادی طور پر انصاف کا بحران ہے۔
آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں عالمی “ورلڈ اربن فورم” سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی کے لیے مستقبل کی شہری منصوبہ بندی میں انصاف اور شمولیت کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ انہوں نے پاکستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کی تقریباً 50 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے، جس کا 55 فیصد حصہ کچی آبادیوں میں مقیم ہے جو کہ کسی بھی موسمیاتی آفت کے سامنے انتہائی کمزور ہیں۔

مصدق ملک نے موسمیاتی آفات کے غریب عوام پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب چند دنوں میں غریبوں کی کئی نسلوں کی محنت اور جمع پونجی کو تباہ کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کراچی کی شدید ترین ہیٹ ویو کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ جب پارہ 47 ڈگری تک پہنچا تھا، تو محض 7 دنوں میں تقریباً 560 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہیٹ ویوز اور سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ غریب طبقے کا ہی اٹھانا پڑتا ہے، اس لیے رہائشی اور موسمیاتی انصاف ناگزیر ہو چکا ہے۔