نئی دہلی: مودی حکومت کی ناقص حکمتِ عملی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی کے باعث بھارتی معیشت کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں بھارت کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ‘ایئر انڈیا’ کا سالانہ خسارہ 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ اس بھاری نقصان کے بعد عالمی معاشی حلقوں میں مودی سرکار پر عدم اعتماد کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے ایئر انڈیا کے بین الاقوامی آپریشنز کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ طویل روٹس اور ایندھن کے بے پناہ اخراجات کے باعث کمپنی مالی طور پر دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ بھارتی ایوی ایشن کی اس گرتی ہوئی ساکھ کا پردہ چاک ایئر انڈیا کی اہم ترین شیئر ہولڈر ‘سنگاپور ایئرلائنز’ کی تازہ ترین رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
سنگاپور ایئرلائنز کی رپورٹ نے مودی حکومت کے ان دعووں کی قلعی کھول دی ہے جس میں بھارتی معیشت کو مستحکم دکھایا جا رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق “پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے متبادل کے طور پر طویل ترین فضائی راستے اختیار کرنے سے ایئر انڈیا پر مالی بوجھ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد اب مکمل طور پر ختم ہو رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی ہٹ دھرمی اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف بھارت کی قومی ایئرلائن ڈوب رہی ہے بلکہ اس کے براہِ راست اثرات ملک میں آنے والی بیرونی سرمایہ کاری پر بھی پڑ رہے ہیں، جس سے بھارتی معیشت کا مستقبل مزید تاریک دکھائی دے رہا ہے۔