منی پور :بھارتی حکومت کی مجرمانہ غفلت اور نااہلی کے باعث ریاست منی پور ایک بار پھر نسلی فسادات کی آگ میں جل اٹھی ہے۔ تازہ ترین پرتشدد لہر میں انتہا پسندوں نے 4 عیسائی مذہبی رہنماؤں کو بے دردی سے قتل کر دیا ہے، جس کے بعد پوری ریاست میں صورتحال بے قابو ہو گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، ضلع کانگپوکپی میں ہونے والے اس وحشیانہ قتلِ عام کے بعد نسلی فسادات میں شدت آگئی ہے، جس میں اب تک متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ مذہبی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ نے مقامی اقلیتی برادری میں شدید خوف و ہراس اور غصہ پھیلا دیا ہے۔
عوامی غم و غصے کا رخ قابض بھارتی فورسز کی طرف مڑ گیا ہے۔ مظاہرین نے بھارتی سیکیورٹی فورسز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ فورسز اقلیتوں کو تحفظ دینے کے بجائے تماشائی بنی ہوئی ہیں۔متاثرہ علاقوں میں مکمل ہڑتال ہے اور کاروباری مراکز بند ہیں۔
مظاہرین نے تمام اہم راستوں اور شاہراہوں پر ناکہ بندی کر دی ہے، جس سے آمد و رفت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔منی پور میں جاری یہ مسلسل بدامنی مودی سرکار کے سیکولر بھارت کے دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عیسائی برادری کے مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت میں انتہا پسندی اب ریاست کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے یا اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔