لاہور: بدنام زمانہ بین الصوبائی منشیات فروش انمول عرف پنکی کے گرد قانون کا گھیرا پگھلنے کے بجائے مزید تنگ ہو گیا ہے۔ نیو نیوز ملزمہ کے کوکین نیٹ ورک میں شامل اہم ترین کارندوں کی تصاویر اور خفیہ تفصیلات منظرِ عام پر لے آیا ہے۔ دوسری جانب، تفتیش کے دوران لاہور میں ملزمہ کے خلاف ایک اور پرانے مقدمے کا ریکارڈ ملنے کے بعد اب لاہور اور کراچی میں اس کے خلاف درج مقدمات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 5 ہو گئی ہے۔
تفتیشی اداروں کے ذرائع کے مطابق، انمول عرف پنکی کراچی اور لاہور کے درمیان ایک انتہائی منظم گینگ چلا رہی تھی۔ نیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس نیٹ ورک کے تین سب سے قریبی اور اہم ترین مہرے یہ تھے۔ محمد ناصر، جو نیٹ ورک کی لاجسٹکس اور سپلائی لائن کو سنبھالتا تھا۔ صابراں بی بی، جو لاہور میں مال کی ترسیل اور گاہکوں تک پہنچانے کی ذمہ دار تھی۔ عین اللہ، جسے پنکی کا ساہوکار اور نیٹ ورک کا انتہائی قابلِ اعتماد ساتھی شمار کیا جاتا تھا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، اس نیٹ ورک کا سراغ سن 2004 کے ایک پرانے مقدمے سے ملتا ہے جو لاہور کے تھانہ وحدت کالونی میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس وقت کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ صابراں بی بی کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے 20 گرام قیمتی کوکین برآمد کی تھی۔ صابراں بی بی نے دورانِ تفتیش لاک اپ میں یہ اعترافی بیان دیا تھا کہ اس نے کوکین کی یہ کھیپ کراچی جا کر براہِ راست ‘انمول عرف پنکی’ سے حاصل کی تھی تاکہ اسے لاہور میں سپلائی کیا جا سکے۔