شناختی کارڈ شہری کی جائیداد نہیں صرف شناخت ہے، سول عدالتیں اسے بلاک نہیں کر سکتیں؛ لاہور ہائیکورٹ

 شناختی کارڈ شہری کی جائیداد نہیں صرف شناخت ہے، سول عدالتیں اسے بلاک نہیں کر سکتیں؛ لاہور ہائیکورٹ

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑا اور دوررس فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سول عدالتوں کے پاس قومی شناختی کارڈ (CNIC) کو ضبط، منسوخ یا بلاک کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس تنویر احمد شیخ نے درخواست گزار علی انصاری کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں اہم قانونی نکات کی وضاحت کی۔  عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ قومی شناختی کارڈ شہری کی “منقولہ جائیداد” نہیں ہے، بلکہ یہ محض ایک “شناختی دستاویز” ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ شناختی کارڈ کو نہ تو فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ منتقل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے وراثت میں دیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، اسے جائیداد کے تنازعات کی طرح ڈیل نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت عالیہ نے درخواست گزار علی انصاری کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ ان کا شناختی کارڈ فوری طور پر بحال کیا جائے۔ جسٹس تنویر احمد شیخ نے ریمارکس دیے کہ شناختی کارڈ بلاک کرنا کسی بھی شہری کو اس کی بنیادی شناخت اور ریاست کی فراہم کردہ سہولیات سے محروم کرنے کے مترادف ہے، جس کا اختیار سول عدالتوں کے پاس نہیں۔
قانونی ماہرین اس فیصلے کو ایک سنگِ میل قرار دے رہے ہیں کیونکہ      یہ فیصلہ نادرا آرڈیننس اور اس کے تحت طے شدہ طریقہ کار کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ اکثر دیوانی مقدمات یا لین دین کے تنازعات میں فریقین ایک دوسرے کا شناختی کارڈ بلاک کروانے کی کوشش کرتے ہیں، اس فیصلے کے بعد اب ایسی کوششیں غیر قانونی تصور ہوں گی۔شناختی کارڈ کی بحالی سے شہری کے سفر، بینکنگ اور دیگر سماجی حقوق کا تحفظ یقینی ہوگا۔