کراچی : ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم ترین اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مہنگائی کی لہر کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود (Policy Rate) سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔
معاشی ماہرین اور مالیاتی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں 50 سے 100 بیسسز پوائنٹس تک اضافہ کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مارکیٹ کے دباؤ کے باعث پالیسی ریٹ میں اضافہ ناگزیر نظر آ رہا ہے۔
اس اقدام کا مقصد روپے کی قدر کو سہارا دینا اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاشی اہداف کی تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ معاشی فیصلہ ایک ایسے وقت میں آ رہا ہے جب پاکستان عالمی سفارتی افق پر ایک “سپر پاور” ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی قائدانہ صلاحیتوں کے گن گا رہے ہیں اور دوسری طرف ایران-امریکہ جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سیاسی و سفارتی محاذ پر حاصل ہونے والی اس کامیابی کے اثرات بہت جلد ملکی معیشت پر بھی مثبت انداز میں مرتب ہوں گے۔
صنعت کاروں اور تاجر برادری کی نظریں آج کے اجلاس کے اعلامیے پر لگی ہیں۔ شرح سود میں اضافے کی صورت میں صنعتی قرضے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے، تاہم اسٹیٹ بینک کا بنیادی ہدف اس وقت معیشت کو طویل مدتی استحکام فراہم کرنا ہے۔