لاہور :فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے مقتدر عہدیداروں نے لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملکی تاریخ میں پہلی بار حکومت کو محض روایتی تجاویز دینے کے بجائے ایک مکمل معاشی فریم ورک، 5 سالہ ترقیاتی پلان اور شیڈو اکنامک سروے پیش کر دیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ہم حکومت کو صرف تجاویز نہیں دے رہے بلکہ ایک جامع معاشی فریم ورک فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے بجٹ اور پالیسی سازی میں حکومتی کردار کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پالیسی میکرز ان سفارشات کو عملی جامہ پہنائیں۔ عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ مضبوط معیشت سرکاری دفاتر میں بیٹھ کر نہیں بنتی بلکہ اس کے لیے گہری ریسرچ کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہماری برآمدات میں اضافہ ہی ملک میں حقیقی معاشی استحکام لا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ شیڈو پالیسی صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ ملکی معیشت کی گائیڈ لائن ہے، کیونکہ ایف پی سی سی آئی محض کتابیں چھاپنے کے بجائے معاشی مسائل کا عملی حل فراہم کرتا ہے۔
اس موقع پر یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو تاجر برادری کی تاریخ میں پہلی منفرد پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف پی سی سی آئی پہلی بار ایک مکمل معاشی پلان دے رہا ہے، جس میں ایک مقتدر ٹیکس پالیسی، متبادل اکنامک سروے اور 5 سالہ ڈویلپمنٹ پلان شامل ہے تاکہ ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔