دو ملازمین معطل ابتدائی   انکوائری  رپورٹ پیش

دو ملازمین معطل ابتدائی   انکوائری  رپورٹ پیش

لاہور: جنرل ہسپتال میں مقتولہ کا پوسٹ مارٹم گریڈ 18 کی ریگولر ڈیمانڈ سٹیٹر ڈاکٹر لبنیٰ جبین نے مکمل کیا۔ ابتدائی انکوائری رپورٹ پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل کو پیش کر دی گئی ہے۔

پرنسپل نے میڈیا پر نشر ہونے والی خبر کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی شفاف جانچ کے لیے پروفیسر خضر حیات گوندل کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

ابتدائی انکوائری کے مطابق، پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر لبنیٰ قانونی تقاضوں کے مطابق ڈیڈ باڈی لواحقین کے حوالے کرنے کے لیے سرکاری کاغذات تیار کر رہی تھیں، جب کسی نامعلوم شخص نے ایک کونے سے ویڈیو بنائی، جس میں خاتون ڈاکٹر کو پوسٹ مارٹم کے عمل میں دکھایا نہیں گیا۔

پرنسپل نے کہا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فرنزک ڈیپارٹمنٹ کے کسی بھی ڈاکٹر کو انکوائری میں شامل نہیں کیا گیا تاکہ حقائق غیر جانبدارانہ طور پر سامنے آ سکیں۔

مزید برآں، سرکاری فرائض میں مبینہ غفلت اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے صیغۂ راز میں نہ رہنے کے شبہ میں دو ملازمین کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

پروفیسر فاروق افضل نے کہا کہ مریضوں اور لواحقین کا اعتماد بحال رکھنا ادارے کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا بدانتظامی برداشت نہیں کی جائے گی۔