دبئی کی پُرتعیش زندگی سے مجھے الجھن ہوتی ہے: بشریٰ انصاری

دبئی کی پُرتعیش زندگی سے مجھے الجھن ہوتی ہے: بشریٰ انصاری

کراچی: پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے دبئی کے طرزِ زندگی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے “برانڈڈ لائف” قرار دیا ہے اور اس قسم کے دکھاوے پر مبنی کلچر کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو کلپ میں اداکارہ نے دبئی کے معاشرتی ماحول اور طرزِ زندگی پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی وہ دبئی جاتی ہیں تو انہیں وہاں کا ماحول غیر معمولی حد تک پُر تکلف اور الجھا ہوا محسوس ہوتا ہے، جہاں ہر چیز برانڈڈ اور دکھاوے پر مبنی نظر آتی ہے۔

بشریٰ انصاری نے کہا کہ وہاں سڑکوں سے لے کر لوگوں کے اندازِ زندگی تک ہر جگہ ایک “برینڈ کلچر” نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق لوگ مہنگے زیورات، خوشبوؤں اور لگژری اشیاء کے ساتھ نظر آتے ہیں، جبکہ کئی افراد ظاہری خوبصورتی کے لیے مصنوعی انداز اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ انہیں اس طرزِ زندگی میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی اور وہ خود ایک سادہ اور عملی زندگی کو ترجیح دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دبئی کے گولڈن ویزا یا اس سے جڑی کسی کشش میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں۔

بشریٰ انصاری نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ دبئی اور دیگر عرب ممالک میں صفائی اور جدید سہولیات موجود ہیں، تاہم ان کے مطابق وہاں توجہ زیادہ تر ظاہری خوبصورتی پر دی گئی ہے جبکہ معاشرتی اور تعلیمی ترقی پر کم کام کیا گیا ہے۔