داتا دربار کے قریب ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی اطلاع ریسکیو آپریشن میں حیران کن انکشاف

داتا دربار کے قریب ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی اطلاع ریسکیو آپریشن میں حیران کن انکشاف

لاہور :لاہور کے داتا دربار کے قریب ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی ابتدائی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، تاہم تلاشی کے دوران معلوم ہوا کہ واقعہ محض فیک الرٹ نکلا۔ریسکیو ذرائع کے مطابق، جس سیوریج ہول کی نشاندہی کی گئی تھی، وہاں کسی انسان کے ڈوبنے کا تکنیکی طور پر کوئی امکان نہیں تھا۔ انتظامیہ نے سیوریج لائن کا معائنہ کیا اور متعدد کوششوں کے بعد تصدیق کی کہ کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔
ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ متاثرہ خاتون اور شوہر کے درمیان شدید تنازعات اور سنگین الزامات موجود ہیں۔ خاتون کے والد نے پولیس سے رابطہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بیٹی کو قتل کیا گیا ہے اور سسرالیوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس کے بعد لاہور پولیس نے شک کی بنیاد پر شوہر سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ اب سیف سٹی کی فوٹیجز اور دیگر شواہد کی مدد سے واقعے کی کڑیاں جوڑنے میں مصروف ہیں۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں نالے کے چار مختلف پوائنٹس پر تلاشی میں مصروف رہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی اور جان بچانے کے جذبے نے کسی ممکنہ خطرے کو بروقت کنٹرول کرنے میں مدد دی۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والی خاتون کی لاش نکال لی گئی ہے، جبکہ ان کی معصوم بچی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔واقعے میں واضح غفلت نظر آنے پر فیصل کامران نے سخت ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو فوری معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی تحفظ میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔    اعلیٰ سطح کی تحقیقات: واقعے کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے ایک خصوصی انکوائری کمیٹی بنا دی گئی ہے جو یہ تعین کرے گی کہ اس حادثے کا اصل ذمہ دار کون ہے۔