خلیج کو تباہی سے کیسے بچایا گیا؟سینئر تجزیہ کار فواد احمد کی  عرب نیو

خلیج کو تباہی سے کیسے بچایا گیا؟سینئر تجزیہ کار فواد احمد کی  عرب نیو

مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں جب جنگ کے شعلے بھڑکنے کو تھے، تب ایک “خاموش کھلاڑی” نے شطرنج کی بساط پر ایسی چال چلی کہ اسرائیل کا برسوں پرانا منصوبہ دھول میں مل گیا۔ سینئر تجزیہ کار فواد احمد نے سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف  ترکی الفیصل کے عرب نیوز میں شائع آرٹیکل کے حوالے سے جو انکشافات کیے ہیں، وہ پاکستان کی اس “سٹریٹجک فہم” کا منہ بولتا ثبوت ہیں جس نے پورے خطے کو ایک ہولناک تباہی سے بچا لیا۔
سینئر تجزیہ کار فواد احمد نے وی لاگ میں  رپورٹ کےحوالےسے تفیصلی بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کا بنیادی ہدف یہ تھا کہ خلیجی ممالک (سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر) کو اشتعال دلا کر ایران کے خلاف ایک ہمہ گیر جنگ میں دھکیل دیا جائے۔ پاکستان نے اس نازک موڑ پر خلیجی ریاستوں کو ایک انتہائی اہم نکتہ سمجھایا  ایران کو شدید عسکری جواب دینے کا مطلب ایک ایسی جنگ کا آغاز ہے جس کا ایندھن صرف مسلم ممالک بنیں گے، جبکہ اس کا تمام تر فائدہ براہِ راست اسرائیل کو پہنچے گا۔
سینئر تجزیہ کار فواد احمد کے مطابق پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ عرب ممالک اور ایران کے درمیان مستقبل میں بات چیت کے دروازے کھل سکتے ہیں، لیکن اسرائیل اور ایران کی کشمکش ایک دائمی حقیقت ہے، لہذا خلیجی ممالک کو اس لڑائی کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے۔
پاکستان نے صرف مشورہ ہی نہیں دیا بلکہ عملی طور پر ایک سفارتی پل کا کردار بھی ادا کیا۔سینئر تجزیہ کار فواد احمد کاکہنا تھا کہ معرکہ حق کے حوالے سے تقریب میں  وزیر اعظم شہباز شریف نے  تذکرہ کیا کہ    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر  کے مطابق، ایران نے امریکی تجاویز پر اپنا جواب تیار کر کے پاکستان کے سپرد کر دیا ہے تاکہ اسے امریکہ تک پہنچایا جائے۔ان کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ    ایران نے سیز فائر، امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے میکانزم کی پیشکش کی ہے۔
انہوں نے بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف فوجی کارروائی کی دھمکی دے رہے ہیں تو دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل کے بھی خواہشمند ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان کی ثالثی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
تجزیہ کار فواد احمد کے مطابق، اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا ایٹمی پروگرام ہے جس پر ایران نے تاحال کوئی واضح جواب نہیں دیا، جس کی وجہ سے مذاکرات کی رفتار سست ہے۔ تاہم، پاکستان کی کوششوں سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ    آنے والے دنوں میں ایک بڑا پیس اکارڈ  طے پا سکتا ہے۔    پاکستان میں ایران اور امریکہ کے نمائندے ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں اور     ڈونلڈ ٹرمپ کا ممکنہ دورہ پاکستان اس عمل کو مزید مہمیز دے سکتا ہے۔
سینئر تجزیہ کار فواد احمد کے مطابق پاکستان نے اپنی دور اندیشی سے نہ صرف خلیجی ممالک کے انفراسٹرکچر اور معیشت کو اسرائیل کے مبینہ منصوبوں سے محفوظ رکھا، بلکہ خود کو خطے میں ایک ناگزیر ثالث کے طور پر بھی منوایا ہے۔ اگر یہ ‘خفیہ سفارت کاری’ کامیاب ہوتی ہے، تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ تصور کیا جائے گا۔