حکومت ہمارے بغیر نہ بجٹ پاس کرا سکتی ہے نہ آئینی ترمیم، وعدے پورے نہ ہوئے تو فیصلوں پر نظرثانی کریں گے: بلاول بھٹو

حکومت ہمارے بغیر نہ بجٹ پاس کرا سکتی ہے نہ آئینی ترمیم، وعدے پورے نہ ہوئے تو فیصلوں پر نظرثانی کریں گے: بلاول بھٹو

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، حکومت پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر نہ تو بجٹ منظور کروا سکتی ہے اور نہ ہی کوئی آئینی ترمیم۔ اگر حکومت نے ہمارے ساتھ کی گئی کمٹمنٹس پوری نہ کیں تو ہم اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف سے ان کے اور صدرِ مملکت کے رابطے رہتے ہیں، تاہم حکومت نے نئی آئینی ترمیم کے حوالے سے پی پی سے ابھی تک کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ 28ویں آئینی ترمیم پر ردعمل تب ہی دیں گے جب ان سے بات کی جائے گی، اور ان کی اجازت کے بغیر پارٹی کسی ترمیم کی سپورٹ نہیں کرے گی۔ نیب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کے سامنے اپنا تاریخی مؤقف برقرار رکھا ہے کہ نیب کو اب بند ہو جانا چاہیے۔
معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ملکی حالات کو مدنظر رکھ کر بجٹ بنایا جانا چاہیے، پیپلز پارٹی کی سینئر کمیٹی بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز حکومت کے سامنے پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان نازک حالات میں وہ حکومت سے گلے شکوے اور وعدوں کی خلاف ورزی کی شکایات سامنے لانا مناسب نہیں سمجھتے، پہلے حالات نارمل ہوں پھر بات ہو گی۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے اور امن کے لیے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں اور وہ ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں، کیونکہ خطے میں امن سے ہی پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران امریکہ معاہدہ ہو بھی جائے، تب بھی معاشی مشکلات رہیں گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان اور پیپلز پارٹی کے سعودی عرب، یو اے ای اور ایران کے ساتھ نسلوں پر محیط تاریخی تعلقات ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور اگر کوئی غلط فہمی ہوگی تو اسے باآسانی دور کر لیا جائے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر چھوٹی باتوں کو بڑا چڑھانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں ایران کے بعد سب سے زیادہ حملے اسرائیل پر نہیں بلکہ یو اے ای پر ہوئے ہیں، تاہم پاکستان کی خارجہ پالیسی بالکل درست سمت میں گامزن ہے۔