سرینگر/دوحہ: مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں ریاستی دہشت گردی نے انسانی حقوق کی تمام حدیں عبور کر لیں۔ عالمی میڈیا اور دفاعی ماہرین نے مودی حکومت کے اس ‘خونی ڈرامے’ کو پاکستان کے خلاف جارحیت کا بہانہ اور کشمیریوں کی نسل کشی کی ایک نئی لہر قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، بھارتی سکیورٹی فورسز نے اپنی آپریشنل ناکامیوں کو چھپانے کے لیے معصوم کشمیریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ سکیورٹی کی آڑ میں کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور مقامی خاندانوں کو ان کے آباؤ اجداد کی زمینوں سے جبری بے دخل کر دیا گیا ہے۔ ان اقدامات نے وادی میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں عوام کا جینا محال ہو چکا ہے۔
عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پہلگام واقعہ محض اتفاق نہیں بلکہ بی جے پی کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی ساخت (Demography) کو تبدیل کرنا ہے۔ مودی حکومت بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقے کو ہندوتوا کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ مودی سرکار نے پہلگام کا ڈرامہ اس وقت رچایا ہے جب عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی ساکھ بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی حکمت عملی کی تعریف کر رہے ہیں اور پاکستان ایران، امریکہ کے درمیان ‘امن ساز’ بن کر ابھرا ہے، تو دوسری طرف بھارت اس سفارتی کامیابی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
مودی حکومت اس فالس فلیگ کی آڑ میں بھارتی مسلمانوں کو انتہا پسند ہندو ووٹ بینک کی بھینٹ چڑھا کر پاکستان کے خلاف جارحیت کے لیے زمین ہموار کرنا چاہتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و بربریت اور پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بے نقاب ہونا عالمی برادری کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے، جو مودی حکومت کی سیاسی بوکھلاہٹ اور خطے کے امن کو داؤ پر لگانے کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔