ایف بی آر نے مالدار افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی شروع کردی

ایف بی آر نے مالدار افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی شروع کردی

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک میں ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے مالدار افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیل سے جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ ایف بی آر کا نیا “لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل” سوشل میڈیا پر شوبز اور بزنس شخصیات کی فضول خرچی کو مانیٹر کرے گا اور ان کے اخراجات کو ان کے ٹیکس گوشواروں سے ہم آہنگ کرے گا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ایف بی آر کی 40 رکنی ٹیم نے حال ہی میں انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر پوسٹ کی جانے والی پرتعیش تقاریب، گاڑیوں، زیورات اور دیگر عیش و آرام کی اشیاء کی تصاویر اور ویڈیوز کا تجزیہ شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا یہ شخصیات اپنے شاندار طرز زندگی کے مطابق اپنی آمدنی ظاہر کر رہی ہیں یا نہیں۔

ایف بی آر کے مطابق یہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس عوامی ہیں، اور ان پر نظر رکھنے سے انہیں فوری طور پر ٹیکس چوری کی نشاندہی کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ ایف بی آر نے مزید کہا کہ یہ اقدام ملک کے کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جو کہ پاکستان کی ایک اہم اقتصادی کمزوری ہے۔

حکام نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر اشتراک کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے وہ ٹیکس دہندگان کی غیر ظاہر شدہ دولت کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایونٹ منیجرز، جویلرز اور دیگر سروس فراہم کرنے والوں کی معلومات کا بھی تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا یہ افراد اپنی آمدنی کے مطابق ٹیکس ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔

یہ مانیٹرنگ سیل، جو رواں مہینے کے آغاز میں باضابطہ طور پر قائم کیا گیا، سوشل میڈیا پر ان لوگوں کی شناخت کرے گا جو اپنے اخراجات کو ظاہر کرتے ہیں لیکن ٹیکس کے لیے رجسٹر نہیں ہیں یا جو اپنی آمدنی کو کم ظاہر کر کے ٹیکس سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایف بی آر حکام نے انکشاف کیا کہ اس سیل نے اب تک کچھ کیسز کا انتخاب کیا ہے جن پر مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں، جن میں ایک شادی کی تقریب بھی شامل ہے جس پر 24 کروڑ روپے کی لاگت آئی تھی، جس میں 2 لاکھ 83 ہزار ڈالر ہیروں اور سونے کے سیٹوں پر خرچ کیے گئے تھے۔

ایف بی آر کے اہلکاروں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ شناختی عمل زیادہ تیز اور مؤثر ہوگیا ہے، اور اب ٹیکس چوری کے کیسز کو بہت جلد کھولا جا رہا ہے۔ یہ نیا اقدام ملک میں ٹیکس وصولیوں کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے، جو کہ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان کو درپیش دباؤ کے پیش نظر ضروری ہے۔

مختصر خبر: پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سوشل میڈیا کے ذریعے مالدار افراد کے طرز زندگی کی مانیٹرنگ شروع کر دی ہے، تاکہ ٹیکس چوری کو پکڑا جا سکے۔ اس اقدام کے تحت پرتعیش تقاریب اور خریداری کے معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔