بیجنگ: ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آگئی ہے، تاہم امریکا نے ایران کے لیے کڑی شرائط پیش کر دی ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ ایران کے لیے صدر کی مقرر کردہ “ریڈ لائن” کا مطلب یہ ہے کہ اسے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوششوں سے مستقل دستبردار ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت اسی صورت ممکن ہے جب تہران ان حدود کی پاسداری کرے۔
اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا توقع کرتا ہے کہ بیجنگ اپنا موقف تبدیل کرنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالے گا۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ خلیج میں جاری کشیدگی اور ایران کے اقدامات سے خود چین کے معاشی مفادات اور عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، لہٰذا یہ چین کے اپنے حق میں ہے کہ وہ ایران کو پیچھے ہٹنے پر آمادہ کرے۔
امریکی حکام نے بیجنگ میں موجود چینی قیادت پر زور دیا کہ وہ اس عالمی بحران کے حل کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ خطے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکے۔