ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی

تہران / واشنگٹن: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو واشنگٹن کے حقیقی ارادوں پر اب بھی شدید عدم اعتماد ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ تہران کو واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم اگر ان مذاکرات کے کوئی قابلِ قبول نتائج برآمد نہ ہوئے تو ایران جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ صرف پیغامات کا تبادلہ کافی نہیں، جب تک امریکہ اپنے رویے اور پالیسیوں میں واضح تبدیلی نہیں لاتا، تب تک اس کی نیت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ایران خطے میں امن کا خواہاں ہے لیکن اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور سفارت کاری کی ناکامی کی صورت میں عسکری آپشن کے لیے اس کی تیاری مکمل ہے۔

عباس عراقچی نے اقتصادی اور سماجی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگی جنون صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس جنگ کے معاشی اثرات اب عام امریکی گھرانوں پر بھی براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں، جس سے امریکی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔