ماسکو / بیجنگ : روس اور چین کے درمیان تزویراتی (Strategic) تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے روسی صدر کا جلد دورۂ چین شیڈول کر دیا گیا ہے۔ روسی صدارتی محل “کریملن” کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق، روسی صدر کے اس ہائی پروفائل دورے کی تمام تر تیاریاں اور ایجنڈا مکمل کر لیا گیا ہے۔ عالمی مبصرین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اقدامات کے بعد روسی صدر کے اس دورۂ چین کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔
روسی حکام کے مطابق، صدر کا یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ اقتصادی، دفاعی اور سفارتی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔کریملن نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے سفارت کاروں نے ملاقاتوں کا ایجنڈا فائنل کر لیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کے آنے اور ان کی عالمی پالیسیوں کے تناظر میں، ماسکو اور بیجنگ کا یہ جوڑ عالمی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے۔بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، اس دورے کے عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع اقدامات اور بیانات کے بعد، روس اور چین کا یہ رابطہ واشنگٹن کو ایک واضح پیغام دینے کی کوشش ہے۔ یوکرین جنگ اور مغربی پابندیوں کے بعد روس، چین کے ساتھ اپنی تجارت اور توانائی کے معاہدوں کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔
دونوں رہنما خطے کی سکیورٹی، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور ایشیا پیسفک میں امریکی اثر و رسوخ کو روکنے پر مشترکہ حکمتِ عملی تیار کریں گے۔