لندن/کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت خواتین کے حقوق کی بدترین پامالیوں پر عالمی برادری کی تشویش ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ نے اپنی تازہ ترین خصوصی رپورٹ میں افغان طالبان رجیم کے خواتین دشمن فیصلوں اور صریح امتیازی قوانین کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغان خواتین کے تمام بنیادی انسانی حقوق اور شخصی آزادیاں سلب کر لی ہیں، جس سے وہاں کی خواتین شدید نفسیاتی اور سماجی گھٹن کا شکار ہیں۔
لڑکیوں کے اسکول و یونیورسٹی جانے اور خواتین کے ملازمت کرنے پر عائد سخت ترین پابندیوں کو اجاگر کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان اقدامات نے افغان خواتین کو معاشی طور پر بالکل بے بس کر دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق، بی بی سی کی اس رپورٹ نے طالبان کے سخت گیر رویے کو عالمی سطح پر دوبارہ بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک طالبان خواتین کو ان کے جائز حقوق نہیں دیتے، تب تک افغانستان کو عالمی برادری میں قبولیت ملنا اور سفارتی تنہائی سے نکلنا ناممکن رہے گا۔