نیویارک : اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آبنائے ہرمز کی بندش کو عالمی معیشت کے لیے دم گھٹنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم عالمی گزرگاہ پر کسی بھی قسم کا ٹول ٹیکس عائد نہیں ہے اور اسے بلا روک ٹوک تجارت کے لیے بحال ہونا چاہیے۔
سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات پوری دنیا محسوس کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران کی وجہ سے عالمی سطح پر سپلائی چین بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جس کا براہِ راست نتیجہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورت میں نکل رہا ہے۔
انتونیو گوتریس نے زور دیا کہ عالمی تجارت کو کسی بھی سیاسی یا فوجی کشیدگی کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے، تمام متعلقہ فریقین تجارتی راستوں کو محفوظ بنائیں۔انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا دنیا بھر کے ممالک اور متعلقہ فریقین عالمی معیشت کو سانس لینے دیں۔ عالمی تجارت کی روانی کو یقینی بنانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ عام آدمی کو مہنگائی کے بوجھ سے بچایا جا سکے۔