لاہور ہائیکورٹ کا سموگ تدارک کیس میں درختوں کی کٹائی روکنے اور حکومتی اقدامات تیز کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا سموگ تدارک کیس میں درختوں کی کٹائی روکنے اور حکومتی اقدامات تیز کرنے کا حکم

لاہور۔2اپریل (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران واضح کیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں،عدالت نے درختوں کی غیر ضروری کٹائی روکنے کے حوالے سے متعلقہ محکموں سے عملدرآمد رپورٹ بھی طلب کر لی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیس میں ہارون فاروق،اظہر صدیق سمیت دیگر کی ایک ہی نوعیت کی دائر درخواستوں پر سماعت کی جس میں ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک کیلئے اقدامات نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی۔ جمعرات کو دوران سماعت میں متعلقہ محکموں کے اعلی حکام پیش ہوئے اور اپنی اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کیں،سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے کہ غیر مقامی درخت لاہور کے ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ماحولیاتی بگاڑ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔

دوران سماعت پی ایچ اے کی جانب سے درختوں کی ٹرانسپلانٹیشن سے متعلق قواعد عدالت میں پیش کئے گئےجس پر عدالت نے جوڈیشل واٹر کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ ان قواعد کا تفصیلی جائزہ لے کر مزید بہتری کیلئے سفارشات پیش کرے۔ سماعت کے دوران جوڈیشل واٹر کمیشن نے پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ عدالتی حکم پر دورہ کیا گیا اور جہاں درخت کاٹے گئے تھے وہاں نئے درخت لگا دیئے گئے ہیں،عدالت نے ماحولیاتی صورتحال پر عالمی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق دنیا میں بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث اموات میں اضافہ ہوگا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فضائی آلودگی کی بڑی وجہ گاڑیاں ہیں اور مختلف مواقع پر ٹریفک کو گھنٹوں روکنے سے صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔

جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ سال بھر کی محنت ایک ماہ میں ضائع ہو جاتی ہے اور اس حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔جوڈیشل واٹر کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ ایک نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں14 درخت کاٹے گئےجس پر عدالت نے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔عدالت کو مزید بتایا گیا کہ محکمہ جنگلات نے سڑک کی توسیع کے لیے11 ہزار درخت کاٹنے کا منصوبہ بنایا تھاجسے کمیشن نے فوری طور پر رکوا دیا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اداروں سے ماحولیاتی امور پر عملدرآمد زبردستی کروانا پڑتا ہے۔عدالت نے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ(WWF) کو بھی درختوں کے حوالے سے سفارشات پیش کرنے کی اجازت دی تاہم عدالت نے واضح کیا کہ وہ قانون سازی میں براہ راست کردار ادا نہیں کر سکتے۔عدالت نے تمام متعلقہ سرکاری محکموں کو آئندہ پیشی پر عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔