اسلام آباد۔11اپریل (اے پی پی):آرگینک خوراک اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے ایک نجی ادارہ کے سربراہ نجم مزاری نے کہا ہے کہ زرعی اجناس پر کیڑے مار ادویات اور کھادوں کے بے جا استعمال کے انسانی صحت، ماحول اور خوراک کے معیار پر سنگین اثرات سامنے آ نے کے بعد کئی ممالک اس حوالے سے نئی پالیسیاں تشکیل دے رہے ہیں،کیڑے مار ادویات کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال نہ صرف زمین اور پانی کو آلودہ کرتا ہے بلکہ حیاتیاتی تنوع کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے، زرعی ادویات کا غیر ضروری استعمال مٹی، پانی اور ہوا میں شامل ہو کر مفید کیڑوں اور جانداروں کے لئے نقصان کا باعث بن رہا ہے جس سے قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے اور خوراک کی غذائیت بھی کم ہو سکتی ہے۔
ہفتہ کو جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ زرعی زہروں کے اثرات انسانی صحت پر بھی مرتب ہوتے ہیں جن میں جلدی بیماریاں، سانس کے مسائل حتی کہ کینسر اور اعصابی بیماریاں بھی شامل ہیں جبکہ خوراک میں باقی رہ جانے والے کیمیائی اجزا ء بھی انسانی صحت کےلئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھادوں کے غیر متوازن استعمال سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے، مٹی کی قدرتی ساخت بگڑتی ہے اور پانی کی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے جس سے زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی نظام بھی غیر مستحکم ہو جاتا ہے۔نجم مزاری نے کہا کہ عالمی سطح پر صورتحال کے پیش نظر کئی ممالک اور ادارے پالیسی اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے تعاون سے ازبکستان سمیت مختلف ممالک میں خطرناک کیڑے مار ادویات کے خاتمہ اور متبادل طریقوں کو فروغ دینے کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں جن کا مقصد زرعی پیداوار کو محفوظ بناتے ہوئے کیمیکلز پر انحصار کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پالیسی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد ممالک زرعی نظام کی پائیداری، پانی ، زمین کے تحفظ اور کیمیائی مصنوعات کے استعمال میں کمی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں جبکہ 160 سے زائد ممالک میں زرعی اصلاحات سے متعلق پالیسی فیصلے کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر صحت پنجاب نے بھی ایک حالیہ اجلاس کے دوران کیڑے مار ادویات اور کھادوں کے استعمال کے متوازن استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے جو انتہائی خوش آئند ہے ۔