یواے ای کو طویل المیعاد ڈیپازٹس کی واپسی ، پاکستان کی مضبوط ہوتی بیرونی مالی پوزیشن اور مالیاتی اعتماد کی عکاس

یواے ای کو طویل المیعاد ڈیپازٹس کی واپسی ، پاکستان کی مضبوط ہوتی بیرونی مالی پوزیشن اور مالیاتی اعتماد کی عکاس

اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات(یواے ای) کو میعاد پوری ہونے پر طویل المیعادڈیپازٹس کی واپسی سے پاکستان کی مضبوط ہوتی بیرونی مالی پوزیشن اور مالیاتی اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئی ہےجس سے میعاد پوری ہونے والے ڈیپازٹس کی واپسی سمیت بیرونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مارچ 2026 کے اواخر تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم تقریباً 21.79رب ڈالرریکارڈکیاگیا۔ذرائع کے مطابق سال 2022 کے دوران ادائیگیوں میں توازن کے دباؤ اور سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو کر کئی سال کی کم ترین سطح پر آ گئے تھے اور ایک موقع پرسٹیٹ بینک کے ذخائر 7 ارب ڈالر سے بھی نیچے چلے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان اور سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس کے بعد بیرونی کھاتوں کے استحکام اور کلی معیشت کے استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور دوطرفہ شراکت داروں کا تعاون شامل ہے جس کے نتیجے میں بیرونی مالیاتی بفرز کو دوبارہ مضبوط بنانے میں مدد ملی۔ جون 2025 کے اختتام پر سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر تقریباً 14.51 ارب ڈالر ہوگئے تھے جوجون 2024 میں تقریباً 9.39 ارب ڈالر تھے، اس سے بہتر بیرونی ترسیلات اور پالیسی اقدامات کی عکاسی ہورہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اورمعاشی بحالی کا یہ رجحان 2026 میں بھی جاری رہا اور زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ اس سطح پر پہنچ گئے جو 2022 کے بعد دیکھنے میں نہیں آئی تھیں،اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور بیرونی استحکام میں بہتری کی عکاسی ہورہی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے واجب الادا طویل مدتی ڈیپازٹس کی موجودہ واپسی پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی بیرونی لیکویڈیٹی اور پالیسی ساکھ کی عکاسی کررہی ہے،اور واضح ہورہاہے کہ پاکستان کے پاس بین الاقوامی ذمہ داریوں اورواجبات کی ادائیگی کی صلاحیت واضح طور پر موجود ہے، پاکستان کلی معیشت کے استحکام کومتاثرکئے بغیر اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کافی ہیں اور اعتماد بھی برقرار ہے اسلئے ادائیگی کافیصلہ کیاگیا۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات انمول ہیں۔