اسلام آباد۔3اپریل (اے پی پی):وزیرِ اعظم کی کفایت شعاری مہم کے تحت قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اخراجات میں نمایاں کمی لانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سیکرٹریٹ نے موجودہ مالی سال کے بجٹ و اخراجات کا جائزہ مکمل کرنے کے بعد 47 کروڑ 21 لاکھ روپے کی خطیر رقم قومی خزانے میں سرنڈر کر دی ہے۔ مزید برآں ارکانِ قومی اسمبلی نے بھی اس مہم میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اپنی تنخواہوں سے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کی کٹوتی کی ہے جو وزیرِ اعظم کے خصوصی’’کفایت شعاری فنڈ 2026‘‘ میں جمع کروا دیئے گئے ہیں۔توانائی اور ایندھن کی بچت کے حوالے سے سپیکرسردار ایاز صادق کی ہدایات پر سخت پالیسی اپنائی گئی ہے جس کے تحت قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی 75 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے تاکہ پٹرولیم اخراجات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ بجلی کی ضروریات کے حوالے سے سیکرٹریٹ اب مکمل طور پر’’گرین پارلیمنٹ سولر سسٹم‘‘پر انحصار کر رہا ہے، جس سے سرکاری خزانے پر بجلی کے بلوں کا بوجھ ختم ہو گیا ہے۔
انتظامی امور میں بچت کے لیے دفتر میں ملازمین کی موجودگی کو بھی محدود کر دیا گیا ہے اور فی الوقت صرف 200 ملازمین فزیکلی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔سپیکر سردار ایاز صادق نے سیکرٹریٹ کو ہدایت جاری کی ہے کہ کفایت شعاری مہم پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور غیر ضروری اخراجات کو روکنے کے لیے اقدامات مزید تیز کیے جائیں۔ اس جامع منصوبہ بندی کے ذریعے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے مجموعی طور پر دو ارب روپے تک کی بچت کا ہدف مقرر کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ سلسلہ یہیں نہیں رکے گا بلکہ آئندہ چند ہفتوں میں مزید بچت شدہ رقوم بھی قومی خزانے میں سرنڈر کی جائیں گی۔