اسلام آباد۔31مارچ (اے پی پی):وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت کسان اتحاد کے وفد کے ساتھ منگل کواجلاس منعقد ہوا جس میں زرعی شعبے، فوڈ پراسیسنگ اور برآمدات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم اور سمیڈا کی سی ای او نادیہ جہانگیر سیٹھ نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران کسان اتحاد کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں پھلوں اور سبزیوں کی محفوظ سازی اور جدید پیکنگ سہولیات کی کمی کے باعث بڑی مقدار میں زرعی پیداوار ضائع ہو جاتی ہے جس سے کسانوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے فوڈ پراسیسنگ، پیکیجنگ، ویلیو ایڈیشن اور کولڈ سٹوریج کی کمی کو فوڈ سیکٹر کی بڑی رکاوٹیں قرار دیا۔
معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات میں ویلیو ایڈیشن اور معیاری پیکیجنگ کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سمیڈا کسانوں اور برآمد کنندگان کو جدید تکنیک اور مہارتوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور فوڈ پراسیسنگ کی نئی تکنیکوں کے استعمال سے مصنوعات کی قدر میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، ان سہولیات کے فقدان کے باعث خوراک اور پھل ضائع ہو کر نہ صرف قومی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ کسان بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ویلیو ایڈیشن کے وژن پر عملدرآمد سے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فشریز سیکٹر میں کولڈ چین اور پیداواری حجم بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ایکوا کلچر ٹیکنالوجی اور کولڈ چین میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ سمیڈا کسان اتحاد اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک جامع پالیسی اور عملی منصوبہ تیار کرے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کوالٹی کنٹرول کو یقینی بنا کر اور مضبوط ایکسپورٹ برانڈ قائم کر کے پاکستان زرعی و آبی شعبوں میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔