اسلام آباد۔31مارچ (اے پی پی):وفاقی حکومت اور صوبوں کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے درمیان پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سبسڈی کے طریقہ کار پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منگل کو وزارتِ خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف (ویڈیو لنک کے ذریعے)، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ (ویڈیو لنک کے ذریعے)، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی، اور وزیرِ خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم (ویڈیو لنک کے ذریعے) نے شرکت کی۔اس کے علاوہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز (ویڈیو لنک کے ذریعے)، وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ جبکہ وزارتِ خزانہ، پٹرولیم، آئی ٹی و ٹیلی کام کے وفاقی سیکرٹریز اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
وزیرِ خزانہ نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور واضح کیا کہ یہ اجلاس اعلیٰ سیاسی قیادت کی رہنمائی میں جاری مشاورت کا تسلسل ہے جس کا مقصد پٹرولیم قیمتوں اور سبسڈی اصلاحات کے لئے ایک مربوط اور پائیدار حکمتِ عملی تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے باہمی مشاورت اور وفاق و صوبوں کے درمیان قریبی رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔اجلاس میں عمومی سبسڈی کے نظام سے ہٹ کر ہدفی اور مؤثر معاونت کے فریم ورک کی جانب منتقلی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ صوبائی حکومتوں نے اپنی انتظامی صلاحیت، دستیاب ڈیٹا اور سماجی و معاشی حالات کے مطابق مختلف تجاویز اور نقطہ نظر پیش کئے۔شرکاء نے اس امر پر بھی غور کیا کہ معاونت کے اقدامات کو کس طرح معاشرے کے کمزور طبقات تک مؤثر انداز میں پہنچایا جائے جبکہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھا جائے اور مارکیٹ میں بگاڑ کم سے کم ہو۔
سبسڈی کی فراہمی کے ممکنہ طریقہ کار، بشمول موجودہ ڈیٹا بیس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نقد رقوم کی منتقلی کے نظام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مستقبل کی کسی بھی سبسڈی سکیم کے ڈیزائن اور نفاذ میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر طرزِ حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔ قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر عملدرآمد میں لچک کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا۔
اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ہدفی سبسڈی کے ممکنہ نظام کا ایک ابتدائی خاکہ تیار کر کے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ مزید آراء حاصل کی جا سکیں۔ صوبے اپنی تجاویز کو مزید بہتر بناتے رہیں گے تاکہ اتفاقِ رائے پر مبنی اور قابلِ عمل حل تک پہنچا جا سکے۔وزیرِ خزانہ نے تمام شرکاء کی تعمیری شرکت کو سراہا اور حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معاشی استحکام کو یقینی بناتے ہوئے کمزور طبقات کا تحفظ کیا جائے گا۔