اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے پاکستان کےواٹر ،سینی ٹیشن اینڈ ہائیجین (WASH) کے شعبے میں تاریخی اقدام کے تحت ملک کے پہلے نیشنل واش (WASH) اکاؤنٹس کے قیام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کوپاکستان بیورو آف شماریات کے تعاون سے عملی شکل دی جائے گی تاکہ ملک میں پانی، صفائی اور حفظان صحت کی خدمات کے لئے ایک مربوط قومی ڈیٹا بیس قائم کیا جا سکے جو ماحولیاتی طور پر پائیدار اور کلائمیٹ ریزیلینٹ ہو۔یہ منصوبہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یونیسف اور واٹر ایڈ کی تکنیکی معاونت سے تیار کیا جائے گا اور اس کا مقصد طویل عرصے سے موجود ڈیٹا کے خلا ءکو پر کرنا ہے جس نے شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور شعبے میں ہم آہنگی کو متاثر کیا تھا۔وزارت کے میڈیا ترجمان اور WASH پالیسی ماہر محمد سلیم شیخ نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان ملک بھر میں پانی اور صفائی کی خدمات کی نگرانی کے لئے ایک واحد قومی فریم ورک کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نظام کےتحت وفاقی اور صوبائی حکام سرمایہ کاری، خدمات کی فراہمی اور عوامی فنڈز کے استعمال کی نگرانی کے لئے معیاری اور بروقت ڈیٹا حاصل کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل WASH اکاؤنٹس ملک بھر میں پانی اور صفائی کی خدمات کا مکمل جائزہ فراہم کریں گے اور پالیسی سازوں کو کم خدمات والے علاقوں کی نشاندہی کر کے وسائل وہاں منتقل کرنے میں مدد دیں گے۔وفاقی سیکرٹری برائے وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی عائشہ حمیرا موریانی نے اس اقدام کو “پاکستان کی WASH گورننس میں سنگ میل” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سالوں سے منتشر اور پرانا ڈیٹا مؤثر منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم میں رکاوٹ رہا ہے۔ اب ہم ایک متحد قومی نظام کے ذریعے خلا کی نشاندہی کر کے سرمایہ کاری کو ضروری علاقوں میں منتقل کر سکیں گے۔
عائشہ حمیرا موریانی نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل ٹولز اور مصنوعی ذہانت اس نظام میں شامل کئے جائیں گے تاکہ ڈیٹا کی جمع آوری، تصدیق اور رپورٹنگ تیز اور درست ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کلائمٹ ریزیلینس حاصل نہیں کر سکتا جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ کون صاف پانی اور صفائی تک رسائی رکھتا ہے، خلا کہاں ہیں اور عوامی وسائل کیسے استعمال ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط کرے گا بلکہ ملک کے پانی اور صفائی کے شعبے میں مؤثر پالیسی سازی اور قومی سطح پر ایک مربوط، ڈیٹا پر مبنی نظام قائم کرنے کی بنیاد رکھے گا۔
عائشہ حمیرا موریانی نے کہا کہ یہ منصوبہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف 6 کے مطابق بھی ملک کی رپورٹنگ کو مضبوط کرے گا جو ہر فرد کے لئے صاف پانی اور صفائی کی رسائی کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہےاور اسے حکومتی ترقیاتی ایجنڈے جیسے اڑان پاکستان اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے ای فائیو فریم ورک کے ساتھ بھی ہم آہنگ کیا گیا ہے۔