لاہور۔2اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے لاہور میں واقع اٹامک انرجی کینسر ہسپتال (انمول)کا دورہ کیا اور پاکستان بیت المال (پی بی ایم) کے تحت مستحق کینسر مریضوں کے لیے جاری فلاحی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر وفاقی وزیر کے وفد کا استقبال ممبر سائنس، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی )ڈاکٹر شکیل عباس روفی اور ڈائریکٹر انمول ڈاکٹر عامرہ شامی نے کیا۔ انہیں انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی لاہور (انمول) میں فراہم کی جانے والی جدید طبی سہولیات اور مریضوں کو دی جانے والی معاونت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ نے انمول اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے دیگر ہسپتالوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کینسر کے مریضوں کی خدمت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تخفیف غربت کو ایک عملی مشن کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے اور پاکستان بیت المال سمیت سماجی تحفظ کے پروگراموں کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد مستفید ہو سکیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان بیت المال میں حالیہ اصلاحات کے تحت انفرادی طبی امداد کی حد 10لاکھ روپے سے بڑھا کر 15لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بیت المال کے تحت فراہم کی جانے والی مالی معاونت زکوٰة یا خیرات نہیں بلکہ وفاقی حکومت کا باقاعدہ انڈومنٹ فنڈ ہے اور زیادہ سے زیادہ مریضوں کو اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔انہوں نے ہدایت کی کہ پاکستان بیت المال کے تحت فنڈز کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سادہ، شفاف اور تیز بنایا جائے تاکہ مستحق مریضوں کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان بیت المال کی جانب سے انمول کو فراہم کی جانے والی طبی معاونت میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ قبل ازیں ممبر سائنس PAEC ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیر انتظام ملک بھر میں قائم 21کینسر ہسپتال جدید سہولیات کے ساتھ تقریباً 80 فیصد کینسر مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانب سے انمول کو حال ہی میں خطے کے لیے کولیبریٹنگ سینٹر قرار دیا جانا ادارے کی کارکردگی کا اعتراف ہے۔
ڈائریکٹر انمول ڈاکٹر عامرہ شامی نے ہسپتال کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہیلتھ کارڈ جیسی متبادل سہولیات کی دستیابی کے باعث پاکستان بیت المال کے ذریعے علاج کروانے والے مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ اس پر وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ پی بی ایم کو مزید موثر اور آسان بنانے کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں۔بعد ازاں، وفاقی وزیر نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کمزور طبقات کو معیاری علاج اور موثر سماجی تحفظ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی۔