اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی ،اصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت معاشی گورننس سے متعلق پیر کو اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کے اقتصادی نظام کو مؤثر اور سرمایہ کار دوست بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ معاشی گورننس کو سادہ، شفاف اور بزنس فرینڈلی بنانا حکومت کی اولین قومی ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نظام کو اس انداز میں ڈھالا جا رہا ہے تاکہ بڑی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایک ایسا جامع نظام تشکیل دے رہی ہے جس سے پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے۔
اس سلسلے میں برآمدات بڑھانے والی کمپنیوں کو ٹیکس میں خصوصی مراعات دینے کی سفارش بھی زیر غور ہے۔احسن اقبال نے زور دیتے ہوئے کہا کہ برآمدات کا فروغ ملک کے لئے ’’نیشنل ایمرجنسی‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے اور بیرونی مالی انحصار سے نکلنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر سال کم از کم 5 ارب ڈالر کا اضافہ برآمدات میں کیا جائے۔
انہوں نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک خطے میں سرمایہ کاری کے لئے ایک بڑا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عالمی حالات کے تناظر میں اسلام آباد کو محفوظ سرمایہ کاری حب کے طور پر ابھارا جا سکتا ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سرمایہ کاروں کے لئے اسلام آباد کو اولین ترجیحی مقام بنانے کے لئے پالیسی اقدامات تیز کئے جائیں۔