اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نےابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے لئے حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہےتاکہ یہ ٹیکنالوجیز عدم مساوات بڑھانے کی بجائے مواقع کو برابر کرنے کا ذریعہ بنیں۔پیرکو وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سے جاری بیان کے مطابق وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈیجیٹلائزیشن فار ویمن اکنامک امپاورمنٹ (ڈی فورڈبلیوای ای) منصوبے کی قومی سٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہ ہے،نے اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے ویمن کنٹری آفس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کا مقصد منصوبے کی پیشرفت کا جائزہ لینا اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ یہ چار سالہ منصوبہ (2024–2028) کوریہ انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (کوئیکا) کی مالی معاونت سے جاری ہے۔
سٹیئرنگ کمیٹی اس منصوبے کا اعلیٰ ترین فورم ہے جو سٹریٹجک نگرانی، پالیسی انضمام کی رہنمائی اور احتساب کو یقینی بناتا ہے۔ اجلاس میں حکومتی اور نجی شعبے کے اہم شراکت داروں نے شرکت کی تاکہ جاری اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے اور پروگرام کے اہداف کے مؤثر حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے سٹیئرنگ کمیٹی کے مینڈیٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے نتائج کو ادارہ جاتی حکمت عملیوں میں شامل کرنا، منصوبے کی مدت کے بعد بھی پائیداری کو یقینی بنانا، اور صنفی بنیادوں پر تفریق شدہ نتائج کی حقیقی وقت میں نگرانی نہایت اہم ہے۔
انہوں نے پاکستان میں ڈیجیٹل شمولیت میں پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال خواتین اور مردوں کے درمیان موبائل انٹرنیٹ استعمال کا فرق 36–38 فیصد سے کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا ہے جبکہ رمضان ڈیجیٹل ادائیگی اقدام کے ذریعے خواتین کے لئے 800,000 سے زائد ڈیجیٹل والٹس بھی قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے پسماندہ خواتین کو ڈیجیٹل خدمات اور مالی شمولیت تک رسائی دینے کے لئے 70 لاکھ مفت سمز بھی فراہم کی ہیں۔وفاقی وزیرِ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کی شمولیت نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے بڑی حد تک غیر رسمی شعبے کو، جو کہ تقریباً 50 فیصد جی ڈی پی پر مشتمل ہے، باقاعدہ بنایا جا سکتا ہے۔
خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت افرادی قوت میں اضافہ، فی کس پیداواریت میں بہتری اور پائیدار ٹیلنٹ کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔ انہوں نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت، کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ یہ ٹیکنالوجیز عدم مساوات بڑھانے کے بجائے مواقع کو برابر کرنے کا ذریعہ بنیں۔اجلاس کے اختتام پر تمام شراکت داروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بین الادارہ جاتی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا، پروگرام پر عملدرآمد کو تیز کیا جائے گا، اور کامیابیوں کو دیرپا پالیسی اصلاحات میں تبدیل کیا جائے گا۔
قابلِ پیمائش نتائج کی نگرانی اور ڈیجیٹل شمولیت کو بنیادی حکمت عملیوں میں شامل کرتے ہوئے، وزارتِ آئی ٹی کی زیر صدارت اسٹیئرنگ کمیٹی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں خواتین مرکزی کردار ادا کریں جو کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل نیشن وژن کے تحت ممکن بنایا جا رہا ہے۔