اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر زراعت و لائیوسٹاک پنجاب سید محمد عاشق حسین شاہ کرمانی نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان کے لائیوسٹاک اور ڈیری سیکٹر کی ترقی کے لئے مربوط حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ لائیوسٹاک کا شعبہ زرعی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے اور اس میں ترقی، روزگار اور برآمدات کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی اہمیت کے باوجود یہ شعبہ مکمل طور پر منظم اور ریگولیٹڈ نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کی پیداواری صلاحیت اور عالمی مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس شعبے میں مؤثر اصلاحات اور عملدرآمد صوبوں بالخصوص پنجاب کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ پنجاب لائیوسٹاک پیداوار میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے جدید اور بڑے پیمانے پر لائیوسٹاک فارمز کے قیام، رجسٹرڈ فارموں میں سائنسی بنیادوں پر بریڈنگ کے فروغ اور برآمدات پر مبنی پیداوار کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں زندہ جانوروں کی طلب موجود ہے جس سے فائدہ اٹھانے کے لئے مربوط پالیسی سازی ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزارت بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ دے گی، پالیسی معاونت فراہم کرے گی اور لائیوسٹاک سیکٹر کی جدید کاری کے لئے مشترکہ اقدامات کو آگے بڑھائے گی۔صوبائی وزیر نے پنجاب حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ لائیوسٹاک کارڈ کے ذریعے کسانوں کو بلاسود قرضوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ جانور خرید سکیں جبکہ جانوروں کی ٹیگنگ اور ویکسینیشن کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ صحت اور ٹریس ایبلٹی کے معیار بہتر ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں لائیوسٹاک فیٹننگ پروگرامز اور ہرڈ ٹرانسفارمیشن کے اقدامات جاری ہیں تاکہ پیداوار اور گوشت کے معیار کو عالمی تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بہاولپور میں بیماریوں سے پاک زون کے قیام کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔دونوں وزراء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان پالیسی ہم آہنگی ایک منظم اور برآمدات پر مبنی لائیوسٹاک سیکٹر کے قیام کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے جدید فارمنگ، بہتر بریڈنگ سسٹم اور جانوروں کی صحت کے مضبوط ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ باہمی تعاون کے ذریعے پاکستان کے لائیوسٹاک سیکٹر کو ایک مضبوط، پائیدار اور عالمی سطح پر مسابقتی شعبہ بنایا جائے گا۔